بیت بازی — Page 242
242 ۳۱ ۳۲ ۳۳ ۳۴ ۳۵ ۳۷ ۴۱ ۴۲ مگر انساں کو مٹا دیتا ہے انسان دگر پر خدا کا کام کب بگڑے کسی سے زینہار مفتری ہوتا ہے آخر؛ اس جہاں میں روسیہ جلد کر ہوتا ہے برہم؛ افتراء کا کاروبار مکر کے بل چل رہی ہے؛ ان کی گاڑی روز وشب نفس و شیطاں نے اٹھایا ہے؛ انھیں جیسے کہار مجھ کو کافر کہتے ہیں، میں بھی انہیں مومن کہوں گر نہ ہو پر ہیز گر نہ ہو پر ہیز کرنا جھوٹ سے؛ دیں کا شعار مجھ پر اے واعظ ! نظر کی یار نے ، تجھ پر نہ کی حیف اس ایماں پہ؛ جس سے کفر بہتر لاکھ بار مجھ کو خود اس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تا لگا دے از سر نو باغ دیں میں لالہ زار میں اگر کاذب ہوں ؛ کذابوں کی دیکھوں گا سزا پر اگر صادق ہوں؛ پھر کیا غذر ہے روزشمار ۳۸ میں نے روتے روتے دامن کر دیا کر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی؛ باحال زار ۳۹ موت عیسی کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار ۴۰ مجھ کو دے اک فوق عادت؛ اے خدا! جوش و تپش جس سے ہو جاؤں میں غم میں دیں کے؛ اک دیوانہ وار میں نہیں کہتا ؛ کہ میری جاں ہے سب سے پاک تر میں نہیں کہتا؟ کہ یہ میرے عمل کے ہیں شمار میں نہیں رکھتا تھا اس دعوی سے اک ذرہ خبر کھول کر دیکھو براھیں کو؛ کہ تا ہو اعتبار مجھ کو ہے بس وہ خدا؛ عہدوں کی کچھ پروا نہیں ہو سکے تو خود بنو مهدی بحکم کردگار مفت میں ملزم خدا کے مت بنو؛ اے منکرو! یہ خدا کا ہے؟ نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار محبت میں صادق وہی ہوتے ہیں کہ اس چولہ کو دیکھ کر روتے ہیں میں حیراں ہوں؟ تیرا یہ کیا حال ہے کیا ہے؛ جس سے تو پامال ہے مٹ گئے خیلے تمہارے؛ ہوگئی محبت تمام اب کہو کس پر ہوئی؛ اے منکرو! لعنت کی مار مت کرو بگ بگ بہت اس کی دلوں پر ہے نظر دیکھتا ہے پاکی دل کو نہ باتوں کی سنوار مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس زار بھی ہوگا؟ تو ہوگا، اُس گھڑی باحال زار ۵۰ میرے دل کی آگ نے آخر دیکھایا کچھ اثر آگئے ہیں اب زمیں پر ؛ آگ بھڑ کانے کے دن ا میں نے روتے روتے سجدہ گاہ بھی تر کر دیا پر نہیں ان خشک دل لوگوں کو خوف کردگار ۵۲ میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویراں ہے؛ اور دنیا کے ہیں عالی منار ۴۳ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ وہ