بیت بازی — Page 236
236 ۱۲ ۱۳ ہے لشکر شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا بات مشکل ہوگئی قدرت رکھا؟ اے میرے یار! لگی سینہ میں اس کے آگ غم کی نہیں اس کو خبر کچھ پیچ و خم کی لوگوں کے بغضوں سے اور کینوں سے کیا ہوتا ہے جس کا کوئی بھی نہیں؛ اُس کا خدا ہوتا ۱۵ لخت جگر ہے میرا؛ محمود بندہ تیرا دے اس کو عمر و دولت؛ کر دُور ہر اندھیرا فرقه آخر کی کیا اُمیدیں؛ جب ابتدا یہی ہے ۱۴ 14 12 ۱۸ ١٩ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ لیتے ہی جنم اپنا دشمن ہوا لوگو سُنو ! که زنده خدا؛ وہ خدا نہیں جس میں ہمیشہ عادت قدرت نما نہیں لعنت کی ہے یہ راہ؛ سو لعنت کو چھوڑ دو ورنہ خیال حضرت عز کو چھوڑ دو لعنت ہے مفتری پہ؛ خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی؛ اس کی جناب میں لعنت ہے ایسے دیں یہ کہ اس کفر سے ہے کم سو شکر ہے؛ کہ ہو گئے غالب کے یار ہم لوگ کہتے ہیں؛ کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر؛ پا گیا درگہ میں بار لوگ سو بگ بگ کریں؛ پر تیرے مقصد اور ہیں تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں رازدار لوگ کچھ باتیں کریں؛ میری تو باتیں اور ہیں میں فدائے یار ہوں؛ گو تیغ کھینچے صد ہزار لیک ان چاروں سے میں محروم تھا اور بے نصیب ایک انساں تھا کہ خارج از حساب وازشمار لوگوں کو یہ بتائے؛ کہ وقتِ مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے ود رعدن گلشن لله الحمــد شـنـیـدم کـه آن می آید رو روان مــــــــــــــی آیــــــــــد لائے نہ اگر لب بھی گفتار محبت آنکھوں سے عیاں ہوتے ہیں؛ آثار محبت لے کے آب حیات تو آیا لاثانی اُسوہ احمد کا؛ یہ سیدھی راہ دکھاتا ہے مر رہے تھے؛ جلا دیا تو نے بے دنیا چھوڑے، مسلم کو، دنیا میں خدامل جاتا ہے لطف کر؛ بخش دے خطاؤں کو ٹال دے دُور کر بلاؤں کو کب پر دعا ہے؛ تیرے کرم پر نگاہ ہے عاشق تیرے حبیب ہمارے کب آئیں گے ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱