بیت بازی — Page 237
237 ۳۲ ۳۳ لو جاؤ! تم کو سایہ رحمت نصیب ہو بڑھتی ہوئی خدا کی عنایت نصیب ہو لوگ سمجھیں گے، تو سمجھیں؛ یہ خطا کا ہے ثبوت تم سمجھ لو کہ ہے سو بات کی اک بات سکوت ٣٣ لِلَّهِ الحَمد چلی رحمت باری کی نیم دیکھنا غنچہ دل کا گل خنداں ہونا لبوں ترانه پر ہے محمود کا زمانه زمانہ محمود ہے کا لو دل ہمارے ہاتھ میں دلبر کا واسطہ ہم کو بچاؤ ساقی کوثر کا واسطہ لب خاموش کی خاطر ہی وہ لب کھولتا ہے جب نہیں بولتا بندہ تو خدا بولتا ہے کلام طاهر یہ سب کے نصیب کہاں؟ کہ پیار کی پیاس بجھانے کو لیکن ہر ایک میں کب یہ طاقت ہے وہ سات سمندر پار آئے لاکھوں مرے پیارے؛ تری راہوں کے مسافر پھرتے ہیں؛ ترے پیار کو سینوں میں بسا کے لیکن مجھے زیبا نہیں شکوے؛ میرے مالک! یہ مجھ سے خطا ہوگئی؛ اوقات بھلا کے لیکن آہ جو رستہ سکتے ، جان سے گزرے، تجھ کو ترستے کاش وہ زندہ ہوتے جن پر ہجر کا اک اک پل دُو بھر تھا لگا رکھی ہیں جو چہروں پر مولوی آنکھیں نظر کی برچھی؛ ان آنکھوں سے پار کر دیکھو لگاؤ سیڑھی؛ اُتارو دلوں کے آنگن میں ثار جاؤ ! نظر وار وار کر دیکھو نہ سوچا ہوگا روز قیامت تم جیسوں سے کیا ہوگا لیکن شاید یہ کبھی لیلائے شب کی گود میں سویا ہوا تھا چاند سیماب زیب تن کئے بیٹھی تھی حُورِشب لمحات وصل؛ جن پر ازل کا گمان تھا چٹکی میں اُڑ گئے؟ وہ طیور سرور شب لاکھ ہر دے پر جبر کرے؛ لیکن جب صبر نہ آئے بے چارہ دکھیا نینوں سے؛ بے چارہ دکھیا نینوں سے، چھم چھم نیز بہائے لب پر آجاتا کبھی دل سے اچھل کر میرا نام تو میں اس جنبشِ لب کی طرح یکتا ہوتا لوحِ جہاں پہ حرف نمایاں نہ بن سکے ہم جس جگہ بھی جا کے رہے؛ بے نشاں رہے لو ڈھلک گیا وہ آنسو؛ کہ جھلک رہا تھا جس میں تیری شمع رُخ کا پرتو؛ تیرا عکس پیارا پیارا لیکن افسوس! کہ فرقت کے زبوں حال کے بعد دل میں روندی ہوئی اک حسرت پامال کے بعد ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۲ ۴۴ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۱