بیت بازی — Page 225
225 ۴۷۴ کیا نرالی رسم ہے عاشق دے کے دل بے قرار رہتا ہے ۴۷۵ کونسا دل ہے جو شرمندہ احسان نہ ہو کونسی روح ہے؛ جو خائف و ترسان نہ ہو کبھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہوگا یا یونہی کہتے چلے جاؤ گے؟ تم جانے دو ۴۷۷ در کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ماتھا ڈر پر کاش! تم کہتے کبھی تو؛ کہ اسے آنے دو ۴۷۸ کر دے رہا دُعا کو میری وہ اثر کہاں دھو دے جو سب گنہ مرے وہ چشم تر کہاں کچھ بھی خبر نہیں کہ کہاں ہوں ؛ کہاں نہیں جب جان کی خبر نہیں؛ تن کی خبر کہاں کیا سبب ہے کہ تجھے دے کے دل ؛ اے چشمہ فیض میری جاں معرض الزام ہوئی جاتی ہے ۴۸۰ ۴۸۱ ۴۸۲ ۴۸۳ ۴۸۴ ۴۸۵ ۴۸۶ کبھی نکلے نہ دل سے یاد تیری کبھی سر نہ تیرا دھیان نکلے کیوں نہ پاؤں اُس کی درگہ سے جزائے بے حساب ہے میری نیت تو بے حد؛ گو عمل محدود ہے کیا محبت جائے گی یوں کیا پڑا روؤں گا میں خوں یاد کر کے چشم کے گوں میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا ہوئی الفت ہماری ؛ کیا ہوئی چاہت تمہاری کھا چکا ہوں زخم کاری ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا سُناتے ہو مجھے تم ؛ کیوں ستاتے ہو مجھے تم بس بناتے ہو مجھے تم ؛ میں تمھیں جانے نہ دوں گا ملاقاتوں کی راتیں؟ یوں ہی ہوں جائیں گی باتیں؟ جو مجھ کو شب براتیں میں تمھیں جانے نہ دوں گا کیا تھیں ۴۸۷ کیا کعبہ کو جاؤ گے تبھی تم؛ جس وقت تھک جاؤ گے کشت ظلم ہوتے ہوتے ۲۸۸ کیا تیرے ساتھ لگا کر دل میں خود بھی کمینہ بن جاؤں ہوں جنت کا مینار؛ مگر دوزخ کا زینہ بن جاؤں کہ مشرق اور مغرب دیکھ ڈالے سکوں لیکن کہیں اس نے گجا مولی کی باتیں گجا دن؛ اور گجا تاریک راتیں ۴۸۹ ۴۹۰ ۴۹۱ ۴۹۲ ۴۹۳ کجا ہم اور کلام الله پر ہوں سب وہ کریں تیرے فرشتے اُن سے عامل نہ پایا نگاہوں میں تیری ہوں نفس کامل باتیں معارف کی بہیں سینوں میں نہریں کہاں ہے وہ ؛ کہ ملوں آنکھیں اس کے تلووں سے کہاں ہے وہ؛ کہ گروں اس پہ مثلِ پروانہ ۲۹۳ کر رحم اے رحیم! میرے حال زار پر زخم جگر پہ دردِ دل بے قرار پر