بیت بازی — Page 226
226 کیسی ٹھنڈی ہوائیں چلتی تھیں ناز و رعنائی مچلتی تھیں کب میرے غم کو دور کرتا مجھے پاس اپنے بلا تا ہے ۴۹۵ ۴۹۶ ۴۹۷ ۴۹۸ ۴۹۹ ۵۰۰ ۵۰۱ ۵۰۲ ۵۰۳ ۵۰۴ ہے کیا خبر ان کو ہے کیا جامِ شہادت کا مزا دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں جو سراب زندگی کیوں چھوڑتا ہے دل مجھے اس کی تلاش میں آوارگی سے فائدہ کیا؛ وہ کہاں نہیں کھویا گیا خود آپ کسی کی تلاش میں کچھ بھی خبر نہیں؛ کہ کہاں ہوں، کہاں نہیں کیوں جرم نقض عہد کے ہوں مرتکب جناب! جب آپ عہد کرنے یہ مجبور ہی نہیں کمال مجرأت انسانیت عاشق دکھاتا ہے کہ میدانِ بلا میں بس وہی مردانہ آتا ہے کل دوپہر کو ہم جب تم سے ہوئے تھے رخصت؛ دل خون ہو رہا تھا، افسردہ ہو رہا تھا؟ ظاہر میں چپ تھے، لیکن محزون کرنا خُدا سے اُلفت، رہنا تم اُس سے ڈر کر ؛ بس اُس کو یاد رکھنا، سوفا عشق اس کا؛ تم اُس کچھ لوگ پیار رکھنا تم دل وہ ہیں جو ڈھونڈتے ہیں؟ ملتی ہو رہا تھا کے پار رکھنا کب تلک رستا رہے گا جانِ من ناسُورِ دِل زخم پر مرہم لگا دے؛ ہاں لگا دے آج تُو کب تلک پہنا کروں اوراقِ جنت کا لباس چادر تقوی اوڑھا دے؛ ہاں اوڑھا دے آج تُو ۵۰۶ کیا آپ دریا میری بے تابیاں کافی نہیں تو جگر کو چاک کر کے اپنے؟ یوں تڑپا نہ کر ہے تسکین دل؛ آرام کو ٹھنڈے سایوں میں جلنے میں تیرے پروانے کو کوئی شے نظر سے نہیں اس کے مخفی بڑی سے بڑی ہو؛ کہ چھوٹی سے چھوٹی ۵۰۹ کر دے جو حق و باطل میں امتیاز کامل اے میرے پیارے! ایسا فُرقان مجھ کو دے دے جب غم دیا ہے؛ ساتھ کوئی غمگسار دے ۵۰۷ ۵۰۸ ۵۱۰ ۵۱۱ ۵۱۲ وہ بوجھ ؛ جو لاکھوں بار ہو کیسے اُٹھے کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں ہوا و حرص کی دنیا کو مار دیتے ہیں کسی کا قرض نہیں رکھتے اپنے سر پر وہ جو ایک دے اُنہیں؛ اس کو ہزار دیتے ہیں کفر کی چیرہ دستیوں کو مٹا اسلام کو درازی بخش رست ۵۱۳