بیت بازی

by Other Authors

Page 224 of 871

بیت بازی — Page 224

224 ۴۵۲ ۴۵۳ ۴۵۴ ۴۵۶ ۴۵۸ ۴۵۹ ۴۶۰ ۴۶۱ کس کیا یہ ممکن ہے کہ نازل ہو کلام قادر ظاہر اس سے مگر اللہ کی کچھ شان نہ ہو کس طرح جانیں کہ ہے عشق حقیقی تم کو جیب پارہ نہ ہو؛ گر چاک گریبان نہ ہو ں طرح مانوں کہ سب کچھ ہے خزانہ میں ترے پر تیرے پاس میرے درد کا درمان نہ ہو کام وہ ہے؛ کہ ہو جس کام کا انجام اچھا بات وہ ہے؛ کہ جسے کہہ کے پشیمان نہ ہو کس طرح مانیں؛ کہ مولیٰ کی ہدایت ہے وہ وید کو جب نہ پڑھے؛ اور نہ پڑھائے کوئی ۴۵۷ کون همخواری کرے تیرے سوا بار فکر و حزن لے جاؤں کہاں کثرت عصیاں سے دامن تر ہوا ابر اشک تو به برساؤں کہاں کس نے اپنے رخ زیبا پہ سے الٹی ہے نقاب جس سے عالم میں ہے یہ حشر بپا؛ دیکھو تو! کیا ہوا تم سے جو ناراض ہے دنیا محمود کس قدر تم پہ ہیں الطاف خُدا دیکھو تو! کرے گا فاصلہ کیا جب کہ دل اکٹھے ہوں ہزار دُور رہوں اس سے؛ پھر قریب ہوں میں ۴۶۲ کر اپنے فضل سے تو میرے ہم سفر پیدا کہ اس دیار میں ؛ اے جانِ من! غریب ہوں میں کبھی تو جلوہ بے پردہ سے پہنچا سینہ و دل میں میرے آگ لگانے والے! کیا نہیں آنکھوں میں اب کچھ بھی مروت باقی مجھ مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے! ۴۶۵ کون کہتا ہے لگی دل کی بجھائے کوئی عشق کی آگ میرے دل میں لگائے کوئی کیوں کروں فرق یونہی دونوں مجھے یکساں ہیں سب ترے بندے ہیں گورے ہوں کہ کالے پیارے کیوں غلامی کروں شیطاں کی؛ خُدا کا ہو کر اپنے ہاتھوں سے بُرا کیوں بنوں؛ اچھا ہو کر کس طرح تجھ کو گناہوں پہ ہوئی یوں حجرات اپنے ہاتھوں سے کبھی زہر تو کھایا نہ گیا کفر نے لاکھ تدابیر کیں؛ لیکن پھر بھی صفحہ دہر سے اسلام مٹایا نہ گیا کیوں بنیں پہلی رات کا خواب تری بڑائیاں قصه مامضی ہوئی تیری وہ آن بان کیوں کسب معاش کی رہیں تیری ہر اک گھڑی ہے جب تیرے عزیز پھر بھی ہیں فاقوں سے نیم جان کیوں کیوں ہیں یہ تیرے قلب پر کفر کی چیرہ دستیاں دل سے ہوئی ہے تیرے محو خصلت امتنان کیوں ۴۷ کہاں ہیں مائی و بہزاد؛ دیکھیں فنِ احمد کو دکھایا کیسی خوبی سے مثیل مصطفے ہو کر ۴۶۳ ۴۶۴ ٤٦٦ ۴۶۷ ۴۶۸ ۴۶۹ ۴۷۰ ۴۷۱ ٹھنڈک