بیت بازی

by Other Authors

Page 223 of 871

بیت بازی — Page 223

223 ۴۳۰ ۴۳۱ ۴۳۲ ۴۳۳ ۴۳۴ ۴۳۵ ۴۳۶ کہتے ہیں پیاروں کو جو کچھ ہو؛ وہ آتا ہے پسند اس لیے جو کوئی اُس کا ہو؛ کرو تم اُس سے پیار کیا ہوا؛ کیوں عقل پر اُن سب کے پتھر پڑ گئے چھوڑ کر دیں؛ عاشق دنیا ہوئے ہیں شیخ و شاب کیا بتاؤں؛ کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا سب جہاں بیزار ہو جائے ؛ جو ہوں میں بے نقاب کچھ یاد تو کچے ذرا ہم سے کوئی اقرار ہے کہنے کو سب تیار ہیں؛ چالاک ہیں ، ہشیار ہیں منہ سے تو سو اقرار ہیں؛ پر کام سے بیزار ہیں کیا آپ پر الزام ہے؛ یہ خود ہمارا کام ہے غفلت کا یہ انجام ہے؛ سستی کا یہ انعام ہے کس بات سے تم کو پہنچی تکلیف کیا صدمہ ہے؛ دل فگار کیوں ہو کشن میں میرے بہار کیوں ہو ۴۳۷ کاٹے گئے ۴۳۸ ۴۳۹ ۴۴۰ ۴۴۱ جب تمام پودے گلشن کیا نفع اُٹھایا ترک دیں سے؟ دنیا وہ مجلس عیش و طرب؛ وه راز و نیاز بس اب تو رہ گئی ہے ایک کہاں کچھ تو فرمائیے! کریں اب کیا ہے ہی جاں نثار کیوں ہو کچھ تو آب گناہ رہیں گے ہم تخته گفتگو باقی کیجئے ہمیں ارشاد ۴۴۲ ۴۴۳ مشق بازوئے جلاد کب طلسم فریب ٹوٹے گا کب گرے گا پنجه فولاد وہ دور کب ہوگا رور ترا کب رہا ہوگی قید سے فطرت ۴۴۴ کون ہوگا ترے رخ پر ۴۴۵ کون رکھے گا پھر امانت عشق ۴۴۶ ۴۴۷ ۴۴۸ ۴۴۹ ۴۵۰ ۴۵۱ گفر و کون کہلائے گا استبداد فرہاد کس کے دل میں رہے گی تیری یاد الحاد کے مٹانے کی حق نے رکھی ہے تجھ میں استعداد کسی کی چشم فسوں ساز نے کیا جاؤو تو دل سے نکلی صدا؛ لا إلهَ إِلَّا الله کہاں یہ خانہ ویراں کہاں وہ حضرت ذی شاں کشش لیکن ہمارے دل کی؛ ان کو کھینچ لاتی ہے کبھی جو روتے روتے یاد میں میں اس کی سو جاؤں شبیہ یار آکر مجھ کو سینے سے کبھی کا ہوچکا ہوتا شکاریاس و نومیدی یہ بات اے محمود! میرا دل بڑھاتی لگاتی ہے ہے کام مشکل ہے بہت؛ منزلِ مقصود ہے دُور اے میرے اھلِ وفا! سُست کبھی گام نہ ہو