بیت بازی

by Other Authors

Page 204 of 871

بیت بازی — Page 204

204 } ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا تجھ کو سب قدرت ہے؛ اے رب الوری! کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلا دے یہ ثمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے کہا رو کے حق کا طلب گار ہوں ثار کرم کر کے وہ راہ اپنی بتا ره پاک کرتار ہوں کہ جس میں ہو اے میرے! تیری رضا کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چُپ تھی؛ اور سینہ میں نور تھا سے ہوا اک گناہ کہ پوشیدہ رکھی سچائی کی راہ ے میں قادر کے اسرار ہیں کہ عقلیں وہاں بیچ و بے کار ہیں پردے کہا تو مجھ که کوئی دیکھتا جب اسے دُور ނ تو ملتی خبر اُس کو اُس نور سے کرے کوئی کیا ایسے طومار کو بلا کر دکھاوے نہ جو یار کو کوئی یار سے جب لگاتا دل ہے ۳۹ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ہے سے لذت اُٹھاتا تو باتوں ۴۴ که دلدار کی بات ہے اک غذا مگر تُو ہے ۴۵ ۴۶ ۴۷ دل منکر تجھے اس سے کیا؟ کبھی شرق میں؛ اور کبھی غرب میں گھومتا قلق اور گرب میں رہا کسی نے یہ پوچھی تھی عاشق پوچھی تھی عاشق سے بات وہ نسخہ بتا جس سے جاگے تو رات و درد کہاں نیند جب غم کرے چہرہ زرد کہا نیند کی ہے دوا سوز کہ قدرت کے ہاتھوں کے تھے وہ خدا ہی نے لکھا یہ فضل و کرم وم کہا دور ہو جاؤ تم ہار کے یہ خلعت ہے ہاتھوں سے کرتار کے کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا پیاروں کا چولہ ہوا کیوں بُرا سب کا انجام ہے؛ جز خدا ال کہ دنیا کو کو ہرگز نہیں بقا ہے فنا دین خدا؛ دین اسلام ہے جو ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ہو منکر اس کا بد انجام ہے کہو جو رضا ہو؛ مگر سُن لو بات وہ کہنا کہ جس میں نہیں پکش پات کہ حق جو کہو جب سے گرتار کرتا ہے پیار وہ انساں نہیں؟ جو نہیں حق گذار کہ پوچھے گا مولیٰ حساب تو بھائیو! بتاؤ کہ کیا ہے جواب؟