بیت بازی — Page 203
203 کبھی باپ خدا کا کلام ضلالت کی تعلیم ؛ ناپاک کام کی جبکہ پڑتی نظر وہ کہتا کہ اے میرے پیارے پسر! کبھی وہ خاک ہو کر ؛ دشمنوں کے سر پہ پڑتی ہے کبھی ہو کر وہ پانی؛ اُن پہ اک طوفان لاتی ہے ؛ کب تک رہو گے ضد و تعصب میں ڈوبتے؟ آخر قدم بصدق اٹھاؤ گے یا نہیں؟ کیونکر کرو گے رڈ جو محقق ہے ایک بات؟ کچھ ہوش کر کے غذر سناؤ گے یا نہیں؟ کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لو لوئے عثماں ہے؛ وگر لعلِ بدخشاں ہے کب تلک جھوٹ سے کرو گے پیار کچھ تو سچ کو بھی کام فرماؤ کیوں نہیں تم کو دین حق کا خیال ہائے! سو سو اٹھے ہے دل میں اُبال کیوں نہیں دیکھتے طریق صواب؟ کس بلا کا پڑا ہے کچھ تو خوف خدا کرو لوگو! کچھ تو لوگو! کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے دل پر حجاب! خدا سے شرماؤ پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہہ وہ تو ہر بات میں، ہر وصف میں؛ یکتا نکلا کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا ین رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا کوئی مُردوں سے کبھی آیا نہیں تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے ہے یہ دیں یا سیرت کفار کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت الله ޏ وہ کیوں ہے باہر رہا کیوں بنایا اس کو باشان کبیر غیب دان و خالق و حی و قدیر جس کیا یہی توحید حق کا راز تھا برسوں سے تمہیں اک ناز تھا کیا بشر میں ہے خدائی کا نشاں؟ الاماں ایسے گماں کیوں نظر آتا نہیں راہِ صواب؟ کیا یہی فرقاں ہے آنکھوں الاماں پڑگئے کیسے پر حجاب؟ بھلا؟ کچھ تو آخر چاہئے خوف خدا ނ ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ ۱۶ K ۱۸ ۱۹ ۲۱ ۲۲ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ ۲۷ ۲۸ ۲۹ ۳۰ ۳۱ ۳۲ ۳۳