بیت بازی — Page 205
205 ۵۲ کہ بے شک یہ چولہ پُر از نور حمد وفا ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ ۶۷ ہے بہت دور ہے کہاں ہیں؟ جو نانک کے ہیں خاک پا جو کرتے ہیں اُس کیلئے جاں فدا کہاں ہیں؛ جو اُس کیلئے مرتے ہیں جو ہے واک اُس کا؛ وہی کرتے ہیں کہاں ہیں؟ جو ہوتے ہیں اُس پر نثار جھکاتے ہیں سر اپنے کو کر کے پیار کہاں ہیں؛ جو رکھتے ہیں صدق و ثبات گرو ملے جیسے شیر و نبات قرباں ہوئے جاتے ہیں کہاں ہیں؛ کہ جب اُس سے کچھ پاتے ہیں تعشق کہاں ہیں؟ جو اُلفت سے سرشار ہیں جو مرنے کو بھی دل سے تیار ہیں کہاں ہیں؛ جو وہ بخل سے دُور ہیں محبت نانک کی معمور ہیں کہاں ہیں؟ جو اس رہ میں پُر جوش ہیں گرو کے تعشق میں مد ہوش ہیں ۶۸ کہ اسلام ہم اپنا دیں رکھتے ہیں ۶۹ ۷۰ اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ ۷۶ 22 محمد کی رہ کہاں ہیں؛ وہ نانک کے عاشق کہاں کہ آیا ہے نزدیک اب امتحاں کیسے کافر ہیں؛ مانتے ہی نہیں نے سو طرح سمجھایا کوئی دن کے مہماں ہیں ہم سب سبھی خبر کیا کہ پیغام آوے ابھی پر یقین رکھتے ہیں کیونکر ہو شکر تیرا؟ تیرا ہے، جو ہے میرا تو نے ہر اک کرم سے؛ گھر بھر دیا ہے میرا کر ان کو نیک قسمت ؛ دے ان کو دین و دولت کر ان کی خود حفاظت ؛ ہو ان پہ تیری رحمت کر فضل سب یہ یکسر؛ رحمت سے کر معطر یکسر رحمت سے کر معطر یہ روز کر مبارک سبـــحـــــان مــــن یـــانـــی کرتا ہے پاک دل کو ؛ حق دل میں ڈالتا ہے یہ روز کر مبارک سبـــحـــــان مــــن يـــرانـــی کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں؛ اور رحم فراواں تیرا کس کے دل میں یہ ارادے تھے ؛ یہ تھی کس کو خبر کون کہتا تھا کہ یہ بخت ہے رخشاں تیرا کوئی ضائع نہیں ہوتا؛ جو تیرا طالب ہے کوئی رُسوا نہیں ہوتا؛ جو ہے جویاں تیرا کہ تو نے پھر مجھے دن دکھایا کہ بیٹا دوسرا بھی پڑھ کے آیا کلام اللہ کو پڑھتی ہے خدا کا فضل اور رحمت سراسر