بیت بازی — Page 181
181 کلام محمود طالب دنیا نہیں ہوں؛ طالب دیدار ہوں تب جگر ٹھنڈا ہو؛ جب دیکھوں رُخ تابانِ یار طریق عشق میں؛ اے دل ! سیادت کیا ، غلامی کیا محبت خادم و آقا کو اک حلقہ میں لاتی ہے طعنے دیتا ہے مجھے؛ بات تو تب ہے واعظ ! اس کو تو دیکھ کے؛ انگشت بدندان نہ ہو طور پر جلوہ گناں ہے وہ؛ ذرا دیکھو تو حسن کا باب شغل صبح و شام ہے مولوی صاحب کی کستانی تو دیکھ طوفان کے بعد اُٹھتے چلے آتے ہیں طوفاں لگنے نہیں آتی ہے؟ میری کشتی کنارے طعن پاکاں؛ کھلا ہے؛ بخدا دیکھو تو ۱۲ ۱۳