بیت بازی

by Other Authors

Page 149 of 871

بیت بازی — Page 149

149 کلام محمود ڈرتی نہیں کچھ بھی تو خُدا اے قوم! ڈھونڈتی تجھ کو کیا ہوا ہے ہے جلوۂ جاناں کو آنکھ چاند سا چہرہ ہمیں دکھلائے کون ڈالتا جا نظر مہر بھی اس غمگیں نظر قہر سے مٹی میں ملانے والے! ڈھونڈتی ہیں؛ مگر آنکھیں نہیں پاتیں اُن کو ہیں کہاں وہ؛ مجھے روتے کو، ہنسانے والے! ڈھونڈتے ہیں تجھی کو کیوں سارے جہاں کے ابتلا پیستی ہے تجھی کو ہاں گردشِ آسمان کیوں ڈر کا اثر ہو ان پہ؛ نہ لالچ کا ہو اثر ہوش آئیں جن کو ایسے یہ مخمور ہی نہیں ڈھونڈتا پھرتا ہے کونا کونا میں ؛ گھر گھر میں کیوں اس طرف آ! میں پتا دُوں تجھ کو تیرے یار کا ڈھونڈتی پھرتی تھی شمع نور کو محفل کبھی اب تو ہے خُود شمع کو دُنیا میں محفل کی تلاش ڈلہوزی و شملہ کی تو ہے یاد ہوئی مجھ ہے خواہش کشمیر؛ جو مٹتے نہیں مٹتی ڈھانپتے رہتے ہیں ہر دم ؛ دوسروں کے عیب کو ہیں چھپاتے رہتے وہ؛ دُنیا جہاں کے عیب کو ڈوبا ہوں بحر عشق الہی میں؛ شاد میں کیا دے گا خاک فائدہ آپ بقا مجھے ڈوکی، قصوری، دہلوی؛ لیکھو و سومراج ساروں کو ایک وار میں؛ اس نے گرا دیا ۱۲ ۱۳ ۱۴ ۱۵ 17 ۱۷ IA ۱۹ ۲۰