بیت بازی — Page 145
145 ۲۶۳ ۲۶۴ ۲۶۵ ۲۶۶ ۲۶۷ ۲۶۸ ۲۶۹ دل جل رہا ہے میرا؛ فرقت سے تیری ہر دم جام وصال اپنا؛ اے جان! مجھ کو دے دے دُنیائے کفر و بدعت کو؛ اس میں عرق کردُوں طوفانِ نوح سا اک؛ طوفان مجھ کو دے دے دھل جائیں دل بدی سے سینے ہوں نور سے پُر امراضِ رُوح کا وہ؛ درمان مجھ کو دے دے ؛ رہ گئی ہے اب عیش دُنیا کا درد ہی درد و سب خمار گیا اشکبار گیا دل اند و نگیں کو لے کر ساتھ چاک دامان دنیا کا غم ادھر ہے؛ اُدھر آخرت کا خوف یہ بوجھ میرے دل سے الہی! اُتار دے دن بھی اسی کے، راتیں بھی اس کی ؛ جو خوش نصیب آقا کے در پر عُمر کو اپنی گزاردے ۲۷۰ دل چاہتا ہے؟ جان ہو اسلام پر نثار توفیق اس کی؛ اے میرے پروردگار دے! ۲۷۱ دل میں میرے کوئی نہ کسے ؟ تیرے سوا اور گر تو نہیں بتا؛ اسے ویرانہ بنادے ۲۷۲ دَخَلَت صُفُوفَ عِدًى بِغَيرِ رَوَيَّةٍ فَازَت جَمَاعَةُ صَحِبِهِ بِقُحُومِهَا دیر کے بعد وہ ملے ؛ اُٹھ کے ملے ، کیسے سکت دل میں خوشی کی لہر تھی؛ آنکھ سے اشکبار تھا دشمن کو بھی جو مومن کہتا نہیں وہ باتیں تم اپنے گرم فرما کے حق میں روا سمجھے ؛ درد نہاں کا حال کسی کو سُنائیں کیا طوفان اُٹھ رہا ہے جو دل میں؛ بتائیں کیا دنیا ہے ایک زال عُمر خورده و ضعیف اس زال زشت رُو سے بھلا دل لگائیں کیا ۲۷۷ دامن تہی ہے، فکر مشوش، نگہ غلط آئیں تو تیرے در پہ؛ مگر ساتھ لائیں کیا دل کو لے کر میں کیا کروں پیارے! تو اگر میرا دلربا ۲۷۳ ۲۷۴ ۲۷۵ ۲۷۶ ۲۷۸ ۲۷۹ دل و دلبر میں چھیڑ جاری ہے ۲۸۰ ۲۸۱ ۲۸۲ ۲۸۳ ۲۸۴ نہ بنا اک طرفه شاخسانہ بنا دوستوں، دشمنوں میں فرق ؛ داب سلوک یہ نہیں آپ بھی جام کے اُڑا؛ غیر کو بھی پلائے جا منتظر ہوں تیری آمد کا؛ کئی راتوں سے دن ہی چڑھتا نہیں قسمت کا مری؛ اے افسوس ! منتظر منظور دل مانگ، جان مانگ؛ کیسے غذر ہے یہاں ہے ہمیشہ خاطر مجھے تیری دل کو ہے وہ قوت و طاقت عطا کی ضبط نے نالہ جو دل سے اُٹھا میرے؛ وہ طوفاں ہو گیا دل دے کے؛ ہم نے ان کی محبت کو پالیا بے کار چیز دے کے؛ در بے بہا لیا