بیت بازی — Page 144
144 ۲۴۱ ۲۴۲ ۲۴۳ ۲۴۴ ۲۴۵ ۲۴۶ ۲۴۷ ۲۴۸ ۲۴۹ ۲۵۰ ۲۵۱ ۲۵۳ ۲۵۴ دیکھو! کہ دل نے ڈالی ہے جا کر کہاں کمند گودا تو ہے یہ بحر محبت میں؛ پر کہاں دل کی حالت پر؛ کسی بندے کو ہو کیا اطلاع بس وہی محمود ہے؛ جو اس کے ہاں محمود ہے دل میں رکھوں گا چھپا کر ؛ آنکھ کی پتلی بنا کر اپنے سینے سے لگا کر ، میں تمھیں جانے نہ دوں گا دیکھا نا؛ نگاہِ یار پا لی ہم نے فُرقت میں کواس و ہوش کھوتے کھوتے دلوں کو نور سے ہوں بھرنے والے ہوں تیری رہ میں؛ ہر دم مرنے والے دل کی اُمید میں؛ دل ہی میں سب دفن ہو گئیں پائے اُمید محبت رہا؟ انتظار پر دیوداروں کی ہر طرف تھی قطار یاد کرتا تھا دیکھ کر قدِ یار دیکھئے ! کب وہ منہ دکھاتا ہے پرده چهره ނ کب اُٹھاتا ہے ڈوری کو اپنی دیکھ کے؛ میں شرمسار ہوں عاشق تو ہوں؛ پہ حرص و ہوا کا شکار ہوں دشمن کو ظلم کی برچھی سے ؛ تم سینہ و دل بر مانے دو یہ ڈر در ہے گائن کے دوا تم صبر کرو، وقت آنے دو دیکھ لینا! اُن کی اُمیدیں بنیں گی؛ حسرتیں اک پریشاں خواب نکلے گا؟ یہ خواب زندگی ۲۵۲ دلبرا! الزام تو دیتے ہیں چھپنے کا تجھے اوڑھے بیٹھے ہیں مگر ہم خود؛ نقاب زندگی وست عزرائیل میں مخفی ہے سب راز حیات موت کے پیالوں میں؛ بٹتی ہے شراب زندگی دل دے چکے؛ تو ختم ہوا قصه حساب معشوق سے حساب کا دستور ہی نہیں دشمن کی چیرہ دستیوں پر ؛ اے خُدا گواہ ہیں زخم دل بھی سینے کے ناسور ہی نہیں دلبر ہے وہ ہمارا؛ تم اس سے چاہ رکھنا مشکل کے وقت دونوں؛ اُس پر نگاہ رکھنا ۲۵۷ دامن دل پھیلتا جاتا ہے؛ بے حد و حساب دھجیاں اس کی اُڑا دے؛ ہاں اُڑا دے آج تو ۳۵۸ دستِ کوتاهم كـجـا الـمـار فردوسی کجا شاخ طوبی کو ہلا دے؛ ہاں ہلا دے آج تُو درس الفت ہی نہ گر پایا؟ تو کیا پایا بتا گر محبت کے سکھا دے؛ ہاں سکھا دے آج تو دُور رہنا اپنے عاشق سے نہیں دیتا ہے زیب آسماں پر بیٹھ کر تو یوں مجھے دیکھا نہ کر دلوں کی چھپی بات بھی جانتا ہے بدوں اور نیکوں کو پہچانتا ہے دل پاک کر دے میرا؛ دُنیا کی چاہتوں سے سیوثیت سے حصہ؛ سُبحان مجھ کو دے دے ۲۵۵ ۲۵۶ ۲۵۹ ۲۶۰ ۲۶۱ ۲۶۲