بیت بازی

by Other Authors

Page 146 of 871

بیت بازی — Page 146

146 دے ہم کو یہ توفیق؛ کہ ہم جان لڑا کے اسلام کے سر پر سے کریں دُور بلائیں در کے خانہ پا کر بند؛ اے شیخ! چلے ہیں چلے ہیں آپ بھی؛ گھر کو خُدا کے دکھائے جو ہر دم؛ چرا حسن مجھ کو مری جاں! میں وہ آئنہ چاہتا ہوں ہر مرض شفائے جہاں حق نے بخشی ہے وہ کتاب مجھے دشمنوں سے تو رکھ میرا پردہ اس طرح کر نہ بے حجاب مجھے پھر دیکھا؛ چشم نیم خواب مجھے داروئ دل میں بیداریاں ہیں پھر پیدا دوزخ میں جلنا سخت بُرا پر یہ بھی کوئی بات نہ تھی سو عیب کا اس میں عیب ہے یہ گفتار نہیں دیدار نہیں ۲۸۵ ۲۸۶ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۸۹ ۲۹۰ ۲۹۱ ۲۹۲ ۲۹۳ دین و دنیا کی سُدھ نہیں اُن کو مجو مجو حسن و جمال ہیں ایسے دشمن نے گھیرا مجھ کو ہے برِى وَ بَسَــــــالــی ! آ بھی جا ۲۹۴ دیکھا نہ تُو نے آئینہ خانہ میں بھی جمال تیری تو عقل میں کوئی آیا فتور ہے دوسروں کی خُو بیاں؛ اس کی نظر میں عیب ہیں تجھ کو اپنی بھی خبر ہے؛ نکتہ چیں سے پوچھئے ۲۹۵ ۲۹۶ ۲۹۷ ۲۹۸ ۲۹۹ ۳۰۰ ۳۰۱ کام آئی ہے ایک آس میرے وہ پھیلائے نہ کیوں مومنوں کی تنگ دامانی تو دیکھ دے گئے تھے جواب تاب و و تواں دامن رحمت دامن بھی ہے؛ محفراں کا سمندر بھی ہے موجود دامن کو سمندر میں ڈبونا نہیں آتا دشمنی کی چلی ہوئی بات بیٹھی ہے؛ پر نظر میں آگ ہے رو نکلتے دُنیا میں یہ کیا فتنہ اُٹھا ہے مرے پیارے! ہر آنکھ کے اندر سے ہیں شرارے دولہا ہمارا زندہ جاوید ہے جناب! کیا بے وقوف ہیں؛ کہ بنیں سوگوار ہم ٣٠٢ در اُس کا آج گر نہ کھلا؟ خیر گل سہی جائیں گے اس کے در پہ یونہی بار بار ہم دُنیا کی منتوں سے تو کوئی بنا نہ کام روئیں گے اُس کے سامنے؛ آب زار زار ہم دشمن ہے خوش؛ کہ نعمت دُنیا ملی اُسے ٹوٹیں گے اس کی گود میں جا کر؛ بہار ہم دل دے رہا ہوں آپ کو ؛ لیتے تو جائیے! کیوں جا رہے ہیں آپ؛ یہ نذرانہ چھوڑ کر دلبر کے در پہ جیسے ہو، جانا ہی چاہیئے گر ہو سکے؟ تو حال سُنانا ہی چاہیئے ۳۰۳ ۳۰۴ ۳۰۵ ۳۰۶