بیت بازی

by Other Authors

Page 143 of 871

بیت بازی — Page 143

143 ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۱ ۲۲۲ ۲۲۳ ۲۲۴ دل ہی تھا، سو وہ بھی تجھ کو دے دیا آب میں اُمیدوں کو دفناؤں کہاں در خانه ألفت اگر میں وا کبھی پاتا تو بس کرتا نہ گھونٹوں پر ؛ صراحی ہی سُبُو ہوتی دعوی حُسنِ بیاں بیچ ہے؛ میں تب جانوں مجھ سے جو بات نہ بن آئے؛ بنائے کوئی دیدہ شوق اُسے ڈھونڈ ہی لے گا آخر لاکھ پردوں میں بھی گو خود کو چھپائے کوئی دے دیا دل؛ تو بھلا شرم رہی کیا باقی ہم تو جائیں گے؛ بُلائے، نہ بلائے کوئی دشت و کوہسار میں جب آئے نظر جلوۂ حسن تیرے دیوانے کو پھر کون سنبھالے؛ پیارے! درد سے ذکر ہوا پیدا؛ بُوا ذکر سے جذب میری بیماری لگی مجھ کو ؛ مسیحا ہو کر دل کو گھبرا نہ سکے؛ لشکرِ افکار و هموم بارک اللہ ! لڑا خُوب ہی تنہا ہو کر ۲۷ داغ بد نامی اُٹھائے گا؟ جو حق کی خاطر آسماں پر وہی چمکے گا؛ ستارا ہو کر دعوای طاعت بھی ہوگا ؟ ادعائے پیار بھی تم نہ دیکھو گے کہیں؛ لیکن وفائے قادیاں دیکھ کر ارض و سما؛ بار گران تشریح رہ گئے ششدر و حیران اُٹھایا نہ گیا ۲۲۵ ۲۲۶ ۲۲۸ ۲۲۹ ۲۳۰ ۲۳۱ ۲۳۲ ۲۳۳ ۲۳۵ ۲۳۶ دل میرا بے قرار رہتا ہے میرا فگار رہتا ہے دل میرا توڑتے ہو کیوں جانی! آپ کا اس میں پیار رہتا ہے دُنیا کی نگہ پڑتی تھی جن ماہ وشوں پر وہ بھی مجھے رکھتے تھے دل و جان سے پیارا دشمن آدم کے؛ جو نادان ہوئے جاتے ہیں ہائے! انسان سے شیطان ہوئے جاتے ہیں ۲۳۴ دوستو! رحم کرو کھول دو زنجیروں کو جا کے جنگل میں مجھے دل ذرا بہلانے دو دوستو ! سمجھو تو ہے زندگی اس موت کا نام یار کی راہ میں اب تم مجھے مر جانے دو دل کی دل جانے مجھے کام نہیں کچھ اس سے اپنی ڈالی ہوئی تھی؛ اُسے سمجھانے دو دل کے بہہ جانے کی نالے بھی خبر دیتے ہیں شاہد اس بات پہ نوک مہک کر ہی نہیں مفقود ساقی استادہ ہے؛ مینا لیے ساغر ہی نہیں دل مایوس سینہ میں؛ اندھیرا چاروں جانب میں نہ آنکھیں ہیں کہ رہ پائیں نہ پر ہیں جن سے اُڑ جائیں درد آشنائی غم ہجراں میں؟ میں کہاں فُرقت نصیب مادر و فاقد پدر کہاں ۲۳۷ ۲۳۸ ۲۳۹ ۲۴۰ دل ނ ہے وسعت ترحيب محبت