بیت بازی — Page 138
138 کلام طاهر دل میں گھر کر گیا؛ وہ دل کا چور دل نشیں کتنا دلربا دکھ اتنے دیئے میں سہہ نہ سکا اب اپنے کئے پر تھا ظالم دل؛ یوں زیست کا رشتہ ٹوٹ گیا پچھتاتا ہے، پچھتانے رو دیکھتا ہوں میں تیرا حسن تو چشم غم سے میرے بہتے ہوئے اشکوں میں جھلکتا ہے تُو ปป دیپ طلسم نظر کے دیکھا کچھ مغرب کے اُفق سے کیسا سچ کا سورج نکلا گئے جھوٹ کے چاند ستارے بے قرار گزرا دن آمرے چاند! میری رات بنے بہت ہے ہے دور ہوگی گلفت عرصوں کی ہم گیت ملن کے گائیں گے؛ اور پیاس بجھے گی برسوں کی پھولیں گی فصلیں سرسوں کی دل آپ کا ہے؛ آپ کی جان آپ کا بدن غم بھی لگا ہے جان آپ کیلئے دن رات درود اس پر ہر ادنی غلام اُس کا پڑھتا ہے بصد منت؛ چیتے ہوئے نام اُس کا دل اُس کی محبت میں؛ ہر لحظہ تھا رام اُس کا اخلاص میں کامل تھا؛ وہ عاشق تام اُس کا دیکھ اس درجہ غم ہجر میں روتے روتے مر نہ جائیں تیرے دیوانے کہیں؛ آج کی رات دو آفت دی گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آو مومن شکرا کے ޏ اگر ظلمت جور ٹل جائیگی طوفان کا رُخ پلٹ جائیگا رت بدل جائیگی ہو، و اندھیر ہرگز نہیں سنت الله تو ہے لا جرم باليقيس قول أملى لَهُم إِنَّ كَيدِى مَتِين بات ایسی نہیں، جو بدل جائے گی دیکھ کر دل کو نکلتا ہوا ہاتھوں سے کبھی رس بھری لوریاں دے دے کے سُلانے والے دیں مجھ کو اجازت ؛ کہ کبھی میں بھی تو روٹھوں لطف آپ بھی لیں رُوٹھے غلاموں کو منا کے دیوانہ ہوں دیوانہ بُرا مان نہ جانا صدقے میری جاں آپ کی ہر ایک ادا کے دشت طلب میں جا بجا بادلوں کے ہیں دل پڑے کاش کسی کے دل سے تو چشمہ فیض اُبل پڑے ۱۲۱ ۱۲۲ ۱۲۳ ۱۲۴ ۱۲۵ ۱۲۶ ۱۲۷ ۱۲۸ ۱۲۹ ۱۳۰ ۱۳۱ ۱۳۲ ۱۳۳ ۱۳۴ ۱۳۵ ۱۳۶