بیت بازی

by Other Authors

Page 139 of 871

بیت بازی — Page 139

139 دیار مغرب جانے والو! کسی غریب الوطن مسافر کی؛ دیار مشرق کے باسیوں کو چاہتوں کا سلام کہنا ۱۳۷ ۱۳۸ ۱۳۹ الده ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ ۱۴۶ دیر کے بعد اے ڈور کی راہ سے؛ میری ترسی نگاہیں، کہ تھیں منتظر آنے والو! تمہارے قدم کیوں نہ لیں! اک زمانے سے اس کارواں کیلئے دیکھو اک شاطر دشمن نے کیسا ظالم کام کیا پھینکا مکر کا جال؛ اور طائر حق زیر الزام کیا دیکھو پھر تقدیر خدا نے کیسا اُسے ناکام کیا مکر کی ہر بازی اُلٹا دی؛ د جل کو طشت از بام کیا بدلی نے شفق کے چہرے پر؛ کیسے دیکھیں تو سہی دن کیسے کیسے؟ حسن دل کے روپ میں ڈھلتا کالا ہے سے اُٹھے جو نعرہ تکبیر گیسو لہرایا ہے ہو کرتا ނ ہمکلام؛ چلو دیس بدیس لئے پھرتا ہوں؟ میرے من میں آن کسی ہے؟ اپنے دل میں اُس کی گتھائیں تن من دھن جس کے اندر تھا دل بے قرار قابو سے نکل چکا ہے یارب! نگاہ رکھ ؛ کہ پاگل، سردار تک تو پہنچے دل جلے جاتا ہے؛ جیسے کسی راہب کا چراغ ٹھیٹھاتا ہو ٹمٹاتا ہو کہیں دور بیابانوں میں دل کو اک شرف عطا کر کے چلے جاتے ہیں اجنبی اجنبی غم میرے محسن میرا کیا لیتے ہیں دن آج کب ڈھلے گا؟ کب ہوگا ظہورِ شب ہم کب کریں گے چاک گریباں؛ حضورشب ۱۳۸ دکھ کا ایک جوالا مکھی سینے میں پھٹ جائے پھوٹ کے بادل بر سے، گرجے کڑ کے ؛ شور مچائے دل میں ہر لحظہ دھڑکتا یہ تمہارا احسان اُس کی ہر ضرب سے سینے میں اُجالا ہوتا دل دھڑکتے جو کبھی راہ میں ملتے سر عام بے دھڑک پیار کے اظہار کا دھڑکا ہوتا دور اک عارض گیتی پہ ڈھلکتا ہوا اشک دیده شب أفق چھلکتا ہوتا ۱۴۷ ۱۴۹ ۱۵۰ ۱۵۱ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۴ ޏ پار اے خدا! قرب یہ ب یہ دونوں کو بہت بہلائے دفن ہو جائے گا کل ساجدہ کی قبر کے ساتھ دھوپ میں سائے دار؛ اُس کا پیار اور اندھیروں میں؛ اک دیا سا تھا دیدہ ہوش جب کھلا دیکھا ہر طرف پھر وہی خلا سا تھا