بیت بازی

by Other Authors

Page 137 of 871

بیت بازی — Page 137

137 ۹۹ 1+1 ۱۰۲ ۱۰۳ دل ہے ہے دل پژمردہ میں باقی نہ رہی زندہ دلی اب میں وہ شوخی تحریر کہاں سے لاؤں؟ دیا سخت حکم اور تاکید کی نہ احسان میں ماں باپ کے ہو کمی دعا کر رہی ہوں؛ کہ مولا میرے مجھے ماں کی خدمت کی توفیق دے سے خدا کا نقش محبت مٹا دیا اتنے بڑھے، کہ خوف بھی دل سے اُٹھا دیا دل کانپتا ہے ڈر سے؛ زبان لڑکھڑاتی رحمت تیری؛ مگر ذرا ہمت بندھاتی دیتے تھے دُکھ سدا تیرے پیاروں سے لڑتے تھے ان کیلئے نبی پہ نبی ٹوٹے پڑتے تھے دیکھنے نہ پائے جی بھر کر ؛ کہ رخصت ہو گیا مشعلِ ایماں جلا کر؛ نور دور آخریں دونوں ہاتھوں سے لٹائے گا خزانے کون اب؟ تشنہ روحیں کس سے لیں گی آب فیضانِ معیں ۱۷ درد کہتا ہے؛ بہادو خونِ دل آنکھوں سے تم عقل کہتی ہے؛ نہیں، آہ و فغاں بے سود ہے دنیا سے الگ دنیا کے مکیں ملتے ہیں مگر گھلتے یہ نہیں دنیا تو ان کی ہوتی ہے؛ یہ آپ خدا کے ہوتے ہیں ؛ ۱۰۴ ۱۰۵ 104 ۱۰۸ 11۔چهره ۱۰۹ دل جس کا ہوا حامل اسرار محبت برسنے لگے انوار محبت دنیا میں حاکموں کو؛ حکومت پہ ناز ہے جو ہیں شریف؛ ان کو شرافت پہ ناز ہے دشمنوں کے وار چھاتی پر لئے مردانہ وار پشت پر ڈستے رہے ہر وقت مارِ آستیں دونوں جہاں میں مایہ راحت تمہیں تو ہو جو تم سے مانگتا ہوں؛ وہ دولت تمہیں تو ہو ۱۱۲ ۱۱۳ بلا بھیجا ہے رپ دوسرا نے دلہن دولہا سے رخصت ہورہی ہے دل مہجور راضی ہو رضا پر تیرا نہیں چاہا چاہا نے خدا دل کی حالت کو جاننے والے اپنے والے دہان بندوں کی ماننے دیکھیں گے کب وہ محفل ؛ كالبد رفي النُّجُوم وہ چاند کب ملے گا؛ وہ تارے کب آئیں گے کھلتے ہی اڑتی ہے بوئے طاغوتی نہیں! یہ لب نہ ہلیں ذکر مصطفی کیلئے درد میں ڈوبی ہوئی تقریر سُن سُن کر جسے لوگ روتے تھے؛ ملائک کہہ رہے تھے آفریں دیکھو جسے غرض کہ وہی مست ناز ہے وحشی بھی ہے اگر اسے وحشت پہ ناز ہے دھلے جاتے ہیں دھبے دامنوں کے برابر رحمتیں برسا رہا ہے ۱۱۴ ۱۱۵ ۱۱۶ 112 ۱۱۸ 119 ۱۲۰