بیت بازی — Page 136
136 دیکھ لو! وہ ساری باتیں کیسی پوری ہوگئیں جن کا ہونا تھا بعید از عقل و فہم و افتکار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ ؛ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار دوش پر میرے وہ چادر ہے؟ کہ دی اس یار نے پھر اگر قدرت ہے اے منکر! تو یہ چادر اُتار دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر اے مری جاں کی پناہ! فوج ملائک کو اُتار دوسرے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ جس سے اک محشر کا عالم تھا بصد شور وپکار دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر مر گئے لاکھوں بشر؛ اور ہوگئے دنیا سے پار دیکھتے ہرگز نہیں قدرت کو اس ستار کی گو سنادیں ان کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار دھو دیے دل سے وہ سارے صحبت دیریں کے رنگ پھول بن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خار دین و تقوی گم ہوا جاتا ہے؛ یارب! رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں؟ کیا کریں، کیا اختیار دیں تو اک ناچیز ہے؛ دنیا ہے جو کچھ چیز ہے آنکھ میں ان کی جو رکھتے ہیں زَروعز ووقار اک نظر خدا کیلئے سید دشمن کا بھی خوب دار نکلا تیس دوستو! پر الخلق مصطفى بھی وہ آر کیلئے نکلا مقصود مل گیا سب؛ ہے جام اب لبالب دیکھا ہے تیرا منہ جب؛ چپکا ہے ہم پہ کوکب پر کوکب دعا کی تھی اُس نے؛ کہ اے کردگار! بتا مجھ کو رہ اپنی خود کر کے پیار دیکھ سکتا ہی نہیں میں ضعفِ دِینِ مصطفے " مجھ کو کر ؛ اے میرے سلطاں ! کامیاب و کامگار درٌ عَدَن که دو جہاں میں تجھ کو حاصل گوہر مقصود ہو اے میرے مسعود! تیری عاقبت محمود ہو ہو دعا کر خدا سے پریشاں نہ ہو : دل غمزدہ! تو ہراساں دعا میری سُن لے خدائے مجیب کہا جس نے رحمت سے انّی قَر دل میں ایمان و یقیں ہے؛ ہاتھ میں قرآن ہے تشنہ روحوں کو پلا دو؛ شربت وصل و بقا دل کے مالک! پکار سُن دل کی ہر دعا مستجاب ہو جائے دشمن۔بنے جو تیرے محبوں کی جان کے وہ خود ہی اپنی جان سے بیزار ہوگئے ۷۹ ۸۰ Al ۸۲ ۸۳ ۸۴ ۸۵ ΛΥ ۸۷ ۸۸ ۸۹ ۹۰ ۹۱ ۹۲ ۹۳ ۹۴ ۹۵ ۹۶ ۹۷ ۹۸