بیت بازی

by Other Authors

Page 135 of 871

بیت بازی — Page 135

135 ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ Yo บ ۶۲ ۶۳ ۶۴ ۶۶ دوستو! اس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن دن بہت ہیں سخت ؛ اور خوف و خطر در پیش ہے پر یہی ہیں دوستو! اس یار کے پانے کے دن دنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شوروشر سب قصہ گو ہیں؛ نور نہیں، ایک ذرہ بھر دنیا کی حرص و آز میں یہ دل ہیں مرگئے غفلت میں ساری عمر بسر اپنی کر گئے دیکھو تو جاکے ان کے مقابر کو اک نظر سوچو! کہ اب سلف ہیں تمہارے گئے کدھر دنیا کو ایسے قصوں نے یک سر حبہ کیا مشرک بنا کے، کفر دیا؛ روسیہ کیا دیدار گر نہیں ہے؛ تو گفتار ہی سہی حسن و جمال یار کے آثار ہی سہی دو عضو اپنے جو کوئی ڈر کر بچائے گا سیدھا خدا کے فضل سے جنت میں جائے گا دیکھو! خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا گم نام پا کے شہرہ عالم بنا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی دیکھو! یہ شخص اب تو سزا اپنی پائے گا اب ہن سزائے سخت؛ یہ بیچ کر نہ جائے گا دیکھو وہ بھیں کا شخص کرم دیں ہے جس کا نام لڑنے میں جس نے نیند بھی اپنے پہ کی حرام دوستی کا دم جو بھرتے تھے، وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے؛ اے مرے حاجت برار! دعوت ہر ہرزہ گو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم میں کوہ ماراں؛ ہرگزر میں دشت خار دشمن غافل اگر دیکھے وہ وہ بازو وہ سلاح ہوش ہو جائیں خطا؛ اور بھول جائے سب نقار دیکھ کر لوگوں کے کینے ؛ دل مرا خوں ہو گیا قصد کرتے ہیں؟ کہ ہو پامال در شا ہوار دشمنو! ہم اس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار دن برے آئے؛ اکٹھے ہوگئے قحط و وبا اب تلک تو بہ نہیں؛ اب دیکھئے انجام کار دل جو خالی ہو گداز عشق سے؛ وہ دل ہے کیا دل وہ ہے؛ جس کو نہیں بے دلبر یکتا قرار دیں کو دے کر ہاتھ سے؛ دنیا بھی آخر جاتی ہے کوئی آسودہ نہیں؛ بن عاشق و شیدائے یار دیا اُس کو گرتار نے وہ گیان کہ ویدوں میں اُس کا نہیں کچھ نشاں دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرشِ رب العالمیں قُرب اتنا بڑھ گیا؛ جس سے ہے اترا مجھ میں یار ۶۷ ۶۸ ۶۹ <۔اے ۷۲ ۷۳ ۷۴ ۷۵ 22