بیت بازی

by Other Authors

Page 134 of 871

بیت بازی — Page 134

134 ۳۴ ۳۵ ۳۶ ۳۷ ۳۸ ۳۹ ۴۰ ۴۱ ۴۲ ۴۳ ۴۴ ۴۵ ۴۶ ۴۷ ۴۸ ۴۹ ۵۰ ۵۱ دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پر سبقت نہیں رہی ۵۲ دل ہوا جاتا ہے ہر دم بے قرار دل بیمار کا ۵۳ درماں بیاباں میں نکالوں بخار ہے طالبوں کا یار خلوت ہے دل میں نہیں؛ کہ دیکھیں وہ اس پاک ذات کو ڈرتے ہیں قوم سے؛ کہ نہ پکڑیں عتاب میں دوستو جا گو! کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے پھر خدا قدرت کو اپنی؛ جلد دکھلانے کو ہے دنیا میں اس کا ثانی؛ کوئی نہیں ہے شربت پی لو تم اس کو یارو! آب بقا یہی ہے دل پھٹ گیا ہمارا؛ تحقیر سکتے سکتے غم تو بہت ہیں دل میں؛ پر جاں گڑا یہی ہے دنیا میں گرچہ ہوگی سو قسم کی برائی پاکوں کی ہتک کرنا؛ سب سے برا یہی ہے دلبر کی تہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے ہشیار ساری دنیا اک باؤلا یہی ہے دے کر نجات و مکتی؛ پھر چھینتا ہے سب سے کیسا ہے وہ دیائو؛ جس کی عطاء یہی ہے دین خدا کے آگے؛ کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اُترے؛ دل میں اُٹھا یہی ہے دیں کے عموں نے مارا؛ آب دل ہے پارہ پارہ دلبر کا ہے سہارا؛ ورنہ فنا یہی ہے دیکھی ہیں سب کتابیں؛ مجمل ہیں جیسی خوابیں خالی ہیں ان کی قابیں، خوانِ ھدیٰ یہی ہے دیں غار میں چھپا ہے؟ اک شور کفر کا ہے اب تم دعائیں کرلو؛ غار حرا یہی ہے دنیا میں عشق تیرا باقی ہے سب اندھیرا معشوق ہے تو میرا عشق صفا یہی ہے دلبر کا درد آیا؛ حرف خودی مٹایا جب میں مرا، چلایا؛ جام بقا یہی ہے دل کر کے پارہ پارہ؛ چاہوں میں اک نظارہ دیوانه مت کہو تم؛ عقل رسا یہی ہے ۵۴ ۵۵ دعا کرتے رہو ہدایت کیلئے حق ہر دم پیارو! دعا کرنا؛ عجب نعمت ہے پیارے! دعا سے آلگے شتی کو پکارو کنارے دن چڑھا ہے دشمنانِ دیں کا؟ ہم پر رات ہے اے میرے سورج ! نکل باہر ؛ کہ میں ہوں بے قرار دن چڑھا ہے دشمنان دیں کا؛ ہم پر رات ہے اے مرے سورج دیکھا اس دیں کے چھکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم؛ جان بھی ہے زیروز بر اک نظر فرما؛ کہ جلد آئیں تیرے آنے کے دن