بیت بازی — Page 110
110 ۳۱۵ ۳۱۶ جب سونا آگ میں پڑتا ہے؛ پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو؟ تو گندن بن کے نکلتا ہے دل جلتے ہیں، جل جانے دو جو سچے مومن بن جاتے ہیں؛ تم تم سچے مومن بن جاؤ موت بھی اُن ڈرتی اور خوف کو پاس نہ آنے ہے رو ۳۱۷ جلوہ ہے ذرّہ ذرّہ میں دلبر کے حسن کا سارے مکاں اُسی کے ہیں؛ وہ لامکاں نہیں جو ادب کے حُسن کی بجلیاں؛ تو نگاه حسن کو کچھ نہ پھر؟ ۳۱۸ ۳۱۹ ۳۲۰ ۳۲۱ ۳۲۲ ہوں چمک رہی کف ناز میں نظر آئے روئے نیاز میں جن باتوں کو سمجھے تھے، بنیاد ترقی کی جب غور سے دیکھا تو ، مٹتے ہوئے سائے تھے جس کے پڑھ لینے سے کھل جاتا ہے راز کائنات وہ سبق مجھ کو پڑھا دے؛ ہاں پڑھا دے آج تو جس سے جل جائیں خیالات من دمائی تمام آگ وہ دل میں لگا دے؛ ہاں لگا دے آج تو جس ނ چھوٹے بڑے؛ دل وہ چشمہ بہا دے؛ شاداب ہوں ، سیراب ہوں ہاں یہا دے آج ۳۲۳ ۳۲۴ ۳۲۵ ۳۲۶ ۳۲۷ وہ جن پر پڑیں فرشتوں کی رشک سے نگاہیں اے میرے محسن ! ایسے انسان مجھ کو دے دے جو اُن کے واسطے؛ ادنی سا کام کرتا ہے وہ دین و دنیا کو اُس کی؛ سُدھار دیتے ہیں جو دن میں آہ بھرے؛ اُن کی یاد میں اک بار وہ رات پہلو میں اُس کے؛ گزار دیتے ہیں جو تیرے عشق میں دل کو لگے ہیں زخم ؛ اے جاں ! ادھر تو دیکھ ! وہ کیسی بہار دیتے ہیں جیت لوں تیرے واسطے سب دل ادا ہائے جاں نوازی بخش جو ختم نہ ہو ایسا دکھا جلوہ تاباں جو کر نہ سکے؛ مجھ کو وہ پروانہ بنا دے ۳۲۹ جَاءَ بِتِريَاقِ مُزِيلٍ سِقَامَنَا غَابَت غَوَايَتُنَا بِكُلِّ سُمُو مِهَا جو جاننے کی باتیں تھیں؟ اُن کو بھلایا ہے جب پو چھیں سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں 'خُدا جانے' جو چال چلے ٹیڑھی جو بات کہی اُلٹی بیماری اگر آئی؛ تم اس کو شفا سمجھے جس پیار کی نگہ سے؛ ہمیں دیکھتا ہے وہ اُس پیار کی نگاہ سے دیکھیں گی مائیں کیا ۳۲۸ ۳۳۰ ۳۳۱ ۳۳۲