بیت بازی — Page 111
111 ۳۳۳ ۳۳۴ جام شراب و ساز طرب رقص پرروش دنیا میں دیکھتا ہوں میں؟ یہ دائیں بائیں کیا مجھ کو اغیار کا گدا نہ بنا کا شامیانہ بنا جو بھی دینا ہے؛ آپ ہی دے دے ۳۳۵ جس کے نیچے ہوں سب جمع عشاق اپنی ۳۳۶ ۳۳۷ ۳۳۸ ۳۳۹ ۳۴۰ ۳۴۱ ۳۴۲ ۳۴۳ ۳۴۴ رحمت جو دل سلامت رہے تو عالم کا ذرہ ذرہ ہے مسکراتا ہزار انجم نظر ہیں آتے ؛ ہزار پیوند پیر بہن میں جسے نوازے خُدا کی خُدا کی رحمت؛ غزال لاکھوں ہیں اور بھی تو ؛ اُسی میں سب خوبیاں ہوں پیدا ہے بات کیا آہوئے ختن میں چیوں ؛ تو تیری خوشنودی کی خاطر ہی جیوں ساقی مروں تو تیرے دروازے کے آگے ہی مروں ساقی جدائی کا خیال آیا جو دل میں لگے آنے پسینوں پر پسینے جو میرا تھا؛ اب اُس کا ہوگیا ہے میرے دل سے کیا یہ کیا کسی نے جدائی میں تیری تڑپا ہوں برسوں یونہی گزرے ہیں ہفتے اور مہینے جو اس کے پیچھے چلتے ہیں؟ ہر قسم کی عزت پاتے ہیں لگ جاؤ اسی کی طاعت میں اور چون و چرا کو رہنے دو جو لگے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے میرا نہ کچھ خیال کر؛ زخم یونہی لگائے جا جادو بھرا ہوا ہے وہ؛ آنکھوں میں آپ کی اچھے بھلے کو دیکھ کے دیوانہ کر دیا جو کام تجھ سے لینا تھا؛ وہ کام لے چکے پر واہ رہ گئی ہے یہاں؛ آب کسے تری جو دل پہ ہجر میں گزری؛ بتاؤں کیا پیارے! عذاب تھا؛ وہ میرے دل کا اضطراب نہ تھا جو پورا کرتے اُسے آپ؟ کیا خرابی تھی؟ میرا خیال؛ کوئی بوالہوس کا خواب نہ تھا جا جا کے اُن کے در پہ تھکے پاؤں جب مرے وہ چال کی؛ کہ اُن کو ہی دل میں بسالیا جو چاہے تو ؛ تو وہی غیر فانی بن جائے وہ زندگی؛ کہ جسے سب حباب کہتے ہیں جس شان سے آپ آئے تھے ، مکہ میں مری جاں اک بار اسی شان سے ربوہ میں بھی آئیں جو پھر نکلو تو جو چاہو، سو کہنا ذرا دیکھو تو اس محفل میں آکے ۳۵۲ جنھوں نے ہوش کے خانے میں کھوئے وہ کیا لیں گے بھلا؟ مسجد میں جاکے ۳۴۵ ۳۴۶ ۳۴۷ ۳۴۸ ۳۴۹ ۳۵۰ ۳۵۱ ۳۵۳ جو پھر سے ہرا کر دے؛ ہر خشک پودا چمن کیلئے؟ وہ صبا چاہتا ہوں