بیت بازی — Page 109
109 ۲۹۴ ۲۹۵ ۲۹۶ ۲۹۷ جاه و عزت تو گئے؛ کبر نہ چھوٹا مسلم ! بھوت تو چھوڑ گیا تجھ کو؛ پہ سایہ نہ گیا جان محمود ترا حُسن ہے؛ اک حسن کی کان لاکھ چاہا؟ تیرا نقش اُڑایا نہ گیا جن کی تائید میں مولیٰ ہو؟ اُنھیں کس کا ڈر کبھی صیاد بھی ڈر سکتے ہیں؛ نخچیروں جو اپنی جان سے بیزار ہو پہلے ہی ؛ اے جاناں ! تمھیں کیا فائدہ ہوگا بھلا؟ اُس پر خفا ہوکر نظر رکھ اپنی جورِ اغیار ۲۹۸ بود و احسانِ شہنشہ پہ نظر رکھ اپنی ۲۹۹ ۳۰۱ ٣٠٣ افسر وه و نالان نہ ہو جو گھنٹوں محبت سے کیا کرتے تھے باتیں اب سامنے آنے سے بھی کرتے ہیں کنارہ جس جن پر مجھے امید تھی؛ شافع میرا ہوگا اس ساعت حسرت میں ہے اُس نے بھی پسارا پر ہر اک حقیقت تھی تھی منگشت وہ واقفان راز وہ فرزانے کیا ہوئے جوشِ رگر یہ سے پھٹا جاتا ہے دل پھر محمود اشک پھر قطرہ سے طوفان ہوئے جاتے ہیں جب نقدِ جان سونپ دیا؛ تجھ کو جانِ من! پاس آسکے بھلا میرے خوف و خطر کہاں ۳۰۴ مجرات زُلف تو دیکھو کہ بروز روشن در پنے قتل؛ سیر بام ہوئی جاتی ہے جو پہلے دن سے کہہ چکا ہوں ؛ مدعا وہی تو ہے میری طلب وہی تو ہے؛ میری دُعا وہی تو۔جو غیر پر نگہ نہ ڈالے؛ آشنا وہی تو ہے جو خیر کے ہوا نہ دیکھے، پشم وا وہی تو ہے جب تلک تدبیر پنجہ گش نہ ہو تقدیر سے آرزو بے فائدہ ہے؛ التجا بے کر بیٹھا ہے اس کا بھی صفایا ۳۰۵ ۳۰۶ ۳۰۷ ۳۰۹ ۳۱۰ وہ ہے سود ہے پایا جائیں ۳۰۸ جو تو نے دی تھی اس کو طاقت خیر جہاں کا چپہ چپہ دیکھ ڈالا مگر کوئی ٹھکانا بھی جو بیکس ہوں؛ یہ ان کے یار ہو جائیں کر ظالم اک تلوار ہو جو کوئی روک تھی؛ اس کو یہاں پر آنے کی بُلا لیا نہ وہیں کیوں نہ اپنا دیوانہ جس کی حیات اک ورق سوز و ساز تھی جیتی تھی جو غذائے تمنائے یار پر جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم! ترے ایسے پیار پر ۳۱۴ جلوے اُس کے نمایاں ہر شے میں سر اُسی کی تھی پیدا؟ ہر کے میں ۳۱۱ ۳۱۲ ۳۱۳