بیت بازی — Page 108
108 ۲۷۳ ۲۷۴ ۲۷۵ ۲۷۶ ۲۷۷ ۲۷۸ ۲۸۰ ۲۸۱ ۲۸۲ ۲۸۳ ۲۸۴ جو پوچھ لو کبھی اتنا کہ آرزو کیا ہے رہے نہ دل میں میرے کوئی آرزو باقی جانتا ہے کس پہ تیرا وار پڑتا ہے عدو کیا تجھے معلوم ہے؛ کس کے جگر پاروں میں ہوں؟ جہاں پہ گل تھے؛ وہیں آج تم نہ رُک رہنا قدم بڑھاؤ؛ کہ ہے انتقال میں برکت خیر تو کر استخاره مَسنُون عَبَث تلاش نہ کر تیر و فال میں برکت جو چاہے جو بھی ہے؛ دشمن صداقت ہے ون حق سے ہے اس کو؛ بغض و عناد جھوٹ نے خوب سر نکالا ہے صداقت کی مل گئی بنیاد ہے ۲۷۹ جو پھونکا جائے گا کانوں میں دل کے مردوں کے کرے گاکثر یا لَا إِلَهَ إِلَّا الله جدائی دیکھتا ہوں جب؛ تو مجھ کو موت آتی ہے اُمید وصل؛ لیکن آکے پھر، مجھ کو چلاتی ہے جو ہوں خدامِ دیں اُن کو خُدا سے نصرت آتی ہے 'جب آتی ہے، تو پھر عالم کو، اک عالم دکھاتی ہے' جو کوئی ٹھوکر بھی مار لے گا؟ کہیں گے اپنی سزا یہی تھی؟ تو اُس کو سہہ لیں گے ہم خوشی سے زباں پر شکوہ نہ لائیں گے ہم جب گزر جائیں گے ہم ؛ تم پر پڑے گا سب بار سُستیاں ترک کرو؛ طالب آرام نہ ہو جو صداقت بھی ہو؛ تم شوق سے مانو اُس کو علم کے نام سے پر؛ تابع اوہام نہ ہو جاں تو تیرے در پہ قرباں ہوگئی سر کو پھر میں ؛ اور ٹکراؤں کہاں ۲۸۶ جلوه یار ہے؛ کچھ کھیل نہیں ہے لوگو! احمدیت کا بھلا نقش ؛ مٹا دیکھو تو جو تم سے کوئی خواہش تھی ، تو بس اتنی ہی خواہش تھی تمھارا رنگ چڑھ جاتا؛ تمھاری مجھ میں بُو ہوتی جہاں جاتا ہوں ؛ اُن کا خیال مجھے کو ڈھونڈ لیتا ہے نہ ہوتا پیار گر مجھ سے؛ تو کیا یوں بستجھ ہوتی ۲۸۹ جلوہ دکھلا مجھے؛ او چہرہ چھپانے والے! رحم کر مجھ پہ او منہ پھیر کے جانے والے! ۲۹۰ مجرعه بادة ألفت جو کبھی مل جائے دُختِ رز کو نہ کبھی منہ سے لگائے کوئی ۲۹ جلد آ جلد کہ ہوں لشکر اعداء میں گھرا پڑ رہے ہیں مجھے اب جان کے لالے؛ پیارے! ، نظر میری پڑی ماضی پر دل خون ہوا جان بھی من جان بھی تن سے مری نکلی؛ جب کبھی تم کو ملے موقع؛ دُعائے خاص کا یاد کر لینا ہمیں اہلِ وفائے قادیاں ۲۸۵ ۲۸۷ ۲۸۸ ۲۹۲ ۲۹۳ جب پسینه