بیت بازی — Page 107
107 ۲۵۱ ۲۵۲ ۲۵۳ ۲۵۴ ۲۵۵ ۲۵۷ ۲۵۸ جس سر پہ بھوت عشقِ صنم کا سوار ہو قسمت یہی ہے اُس کی؛ کہ دنیا میں خوار ہو جاں چاہتی ہے تجھ پہ نکلنا؟ اے میری جاں! دل کی یہ آرزو ہے؛ کہ تجھ پہ نثار ہو جب سے دیکھا ہے اُسے اُس کا ہی رہتا ہے خیال اور کچھ بھی مجھے؛ اب اس کے سوا یاد نہیں اس دل نادان کو سمجھائے کون جانتا ہوں صبر کرنا ثواب ہے جگہ دیتے ہیں جب ہم ان کو اپنے سینہ ودل میں ہمیں وہ بیٹھنے دیتے نہیں کیوں؛ اپنی محفل میں ؛ ۲۵۶ جفائے اہلِ جہاں کا ہوا جو میں شاکی تھپک کے گود میں اپنی سُلا دیا مجھ کو جہاں حسد کا گزر ہے؛ نہ دخلِ بد ہیں ہے ہے ایسے ملک کا وارث بنا دیا مجھ کو جب کلید معرفت ہاتھوں میں میرے آگئی تیرے انعاموں کا مجھ پر بند ہے پھر باب کیوں ؛ جب کہ وہ یار یگانہ؛ ہر گھڑی مجھ کو بُلائے پھر بتاؤ تو، کہ آئے میرے دل کو تاب کیوں جب کہ رونا ہے؛ تو پھر دل کھول کر روئیں گے ہم نہر چل سکتی ہو؛ تو بنوائیں ہم تالاب کیوں جو ہیں خالق سے خفا؛ اُن سے خفا ہو جاؤ جو ہیں اس ڈر سے جُدا؛ اُن سے جُدا ہوجاؤ جو تم نے اُن کو بلانا ہو؛ دل وسیع کرو بڑے وسیع ہیں وہ؛ اس جگہ سمائیں گے کب جو خود ہوں نُور، جنھیں نور سے محبت ہو فريق بحرِ ضَلالت سے؛ دل ملائیں گے کب ۲۵۹ ۲۶۰ ۲۶۱ ۲۶۲ ۲۶۳ یار ہے خواب میں جو ہے؛ وہی بیدار ہے سے رشتہ نہیں ہے زمینی ۲۶۴ جلوۂ جاناں ۲۶۵ جسے اُس پاک و جسے اس نور سے حصہ نہیں ہے جو اس کی دید میں آتی ہے لذت ۲۶۶ ۲۶۷ ۲۶۸ ۲۶۹ ۲۷۰ ۲۷۱ جو ہے اس سے الگ؛ حق سے الگ وہ ہے؟ نہیں آسمانی نہیں زندوں میں؛ ہے وہ جسم بے جاں وہ سب دنیا کی خوشیوں سے سوا ہے ہے جو ہے اس سے جدا؛ حق سے جدا ہے جو کوئی بھی ہے؛ وہ مجھ سے برسر پر خاش ہے ہر کوئی ہوتا ہے آکر؛ میری چھاتی پر سوار جس قدررستہ میں روکیں ہیں ، ہٹا دے وہ اُنھیں جس قدر حائل ہیں پر دے؛ اُن کو کر دے تارتار جب ۲۷۲ جس تک مخص نه ہو کوئی باعث درد بے وجہ پھر اضطرار کیوں ہو کا کٹ رہا ہو گھر بار خوشیوں سے بھلا دوچار کیوں ہو