بدرسوم و بدعات — Page 71
123 122 رسمیں اور بدعتیں کسی بھی قوم کے کردار کی عکاس ہیں رسمیں تنزل کی نشانی ، دین کا افلاس ہیں رسمیں نحوست کا یہ باعث ہیں بہت خناس ہیں رسمیں صلى الله محمد م کے غلاموں کو بھلا کب راس ہیں رسمیں اگر دل عشق مہڈی کا زرا سا ذائقہ پائے تو سفلی خواہشوں کی پیروی کرنے سے شرمائے بہت سی بدعتوں میں آج کل جکڑے ہوئے ہیں ہم رسوم بد کو کتنے چاؤ سے سے پکڑے ہوئے ہیں ہم بنے ہیں نفس کے بندے بہت تکڑے ہوئے ہیں ہم جہاں جھکنا ہے لازم ، اس جگہ اکڑے ہوئے ہیں ہم سکھاتا طریقے نت نئے جب نفس امارہ ہے تو اس کے داؤ سے کوئی بھی بچ پائے نہ بیچارہ کہیں مالی پریشانی ہے ، پیہم تنگ دستی ہے مگر شوق نمائش دل میں ہے بدعت پرستی ہے ادھر دیں ہاتھ سے نکلا ، اُدھر دنیا میں پستی ہے مگر افسوس ہر جاہل کو سفلی مئے کی مستی ہے فرائض واجبات اور سنتیں سب کچھ قضا کر دیں دلوں میں ٹھنڈ تب پڑتی ہے جب رسمیں ادا کر لیں جہاں مالی کشائش ہے ، جہاں کوٹھی میں دانے ہیں وہاں کا حال مت پوچھو کہ کملے بھی سیانے ہیں یہی گھر بدعتیں گھڑنے کے جاری کارخانے ہیں ہر اک تقریب پر واں جشن کے سو سو بہانے ہیں جنم لیتی ہیں ان اونچے گھروں میں بدعتیں ساری مثال وائرس پھر پھیلتی جاتی ہے بیماری ہے جہاں ہے مان پیسے کا نصیحت زہر لگتی چھچھورے پن کی عادت ہے ، متانت زہر لگتی ہے بہت فیشن پرستی ہے ، قدامت زہر لگتی ہے ہے بہت خود سر ، اطاعت زہر لگتی طبیعت ہے بہت محبوب ہیں کچھ عورتوں کو من گھڑت رسمیں اور ان کے چاؤ میں توڑیں وہ اپنے عہد اور قسمیں 1