بدرسوم و بدعات — Page 72
125 124 ہے رسمیں چھوڑنا ان عورتوں کے واسطے بھاری خوشی ہو یا کمی کرتی ہیں پوری بدعتیں ساری بہت نازاں ہیں پشتوں سے یہ رسمیں گھر میں ہیں جاری نبھانا اس جہالت کو بھی ہے رسم وفاداری نمازیں تک بھلا دیتی ہیں وہ رسموں کے چاؤ میں وہ ہیرے بیچ دیتی ہیں فقط کوڑی کے بھاؤ میں بہت سے شوہروں پہ بوجھ ہے روٹی کمانے کا مگر بیوی کو ہر دم شوق ہے رسمیں نبھانے کا خوشی ہو یا نمی اک خبط ہے پیسہ لٹانے کا وہ موقع ڈھونڈتی ہے ہر گھڑی دیگیں چڑھانے کا جنم دن ہے کبھی چہلم کبھی گانے کی محفل ہے بہانہ ڈھونڈ کر کوئی نیا گھر بھر میں ہلچل کہیں رشتہ ہوا تو بے دھڑک رسمیں ہوئیں جاری یہ جوڑا ہاں کا ہے، منگنی کے جوڑے کی ہے تیاری جنم دن پر کبھی عیدوں یہ تحفوں کی وضع داری ادھر منہ توڑ مہنگائی 6 ادھر پیہم خریداری فقط ہونے پہ ہاں ایسی طبیعت گد گدائی مسلسل فون پر باتیں ہیں شوق آشنائی ہے ہے کہیں کہیں پیلے ہرے جوڑے کہیں رسم حنائی ہے ہے ، کہیں جوتا چھپائی ہے نمائی چہرہ جو حق مہر کا پوچھو ، شریعت کا حوالہ ہے پہ جب اپنی غرض آئے شریعت تر نوالہ ہے ہر اک تقریب پر اب رقص کی پھیلی ہے بیماری مہینوں تک ہوا کرتی ہے ہر شب اس کی تیاری اذانِ فجر تک رہتی ہے محفل رقص کی جاری گناہ گاری اسی مخلوط محفل میں پنپتی ہے میاں جب چاؤ خود رقص بیوی کو سکھاتے ہیں ہے کوئی یونہی دن رات شوق نمائش بڑھتا جاتا ہے اسی کے چاؤ میں قرضہ سروں پر چڑھتا جاتا ہے تو بچے پیمپروں میں ہی تھرکنا سیکھ جاتے ہیں۔اپریل فول ، اور کوئی سالِ نو کا شیدائی یوم ویلنٹائن یہ رسم پھول بھجوائی کہیں یومِ کسی نے بن کے مجنوں عشق میں ہے شیو بڑھائی جو محبوبہ نے دی مس کال تو پھر جاں میں جاں آئی اپنی بس اب کیبل ، موبائل اور چیٹنگ زندگی خدا جانے کہاں لے جائے گی دیوانگی اپنی