بدرسوم و بدعات — Page 57
97 96 مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَالَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُقْبَلُ لَّهُ صَلوةُ اَرْبَعِينَ لَيْلَةً (مسلم کتاب السلام ) ترجمہ: جو شخص کسی عراف ( نجومی اور رمال) کے پاس آکر کسی چیز کے بارے میں سوال کرے اس کی چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیں کی جائیں گی۔اسی طرح یہ سمجھنا کہ فلاں دن فلاں سمت جانا سعد ہے اور فلاں سمت جانا نحس ہے یہ موجب شرک ہے۔بدشگونی لینا بدشگونی لینا یہ ہے کہ کبھی انسان کی بائیں آنکھ پھڑ کی تو سمجھ لیا کہ مصیبت ہوگی ، دائیں آنکھ پھڑ کی تو سمجھ لیا کہ خوشی ہوگی، چھینک آئی تو سمجھا کہ کام نہیں ہوگا، سفر کو نکلا تو بلی یا کتایا عورت راستہ میں سامنے سے آ جائے تو سمجھا کہ کام میں ناکامی ہوگی یا چھپکلی چھت سے گرے تو اس سے بھی شگون لے لیا تو یہ سب مو ہم شرک ہیں۔آنحضور علیہ فرماتے ہیں۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّيَّرَةُ شِرُكْ قَالَهُ ثَلَاثَ (ابو داؤد كتاب الطب باب في الطيرة) ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا بد فال لینا شرک ہے، بد فال لینا شرک ہے، بد فال لینا شرک ہے۔مشرک چونکہ زیادہ وہم پرست ہوتے ہیں ذرا ذراسی باتوں پر شگون لیتے اور فال نکالتے ہیں لیکن مومن شک اور وہم سے مبرا اور اپنے رب قادر وتوانا پر ایمان رکھنے کی وجہ سے مطمئن اور تسلی یافتہ ہوتے ہیں وہ ایسے فضول تو ہمات کا شکار نہیں ہوتے۔ایک حدیث میں ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاطِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَالُ ، قَالُوا وَ مَا الْفَالُ؟ قَالَ الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا اَحَدُ كُمْ (بخاری کتاب الطب باب الطيرة ) - حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا کہ بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے بہترین چیز نیک فال ہے۔پوچھا گیا نیک فال کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا نیک کلمہ جس کو تم میں سے کوئی سنتا ہے۔حدہ نکالنا یہ ایک رسم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں اور مویشیوں کو بیماریوں سے بچانے کے لئے قرآن مجید کے نیچے سے گزارتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وبائی امراض سے نجات ہوگئی یہ بھی بدعت ہے۔نظر اتارنا نظر اتارنے کے لئے کئی قسم کی رسمیں پائی جاتی ہیں۔جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مثلاً مرچیں وارنا پھر جلانا، تعویذ کروانا، پیروں سے پھونک مردانا اور دم درود کروانا وغیرہ۔یہ درست نہیں۔نظر لگنا۔نے حضرت خلیفة المسح الانی نوراللہ مرقدہ سے سوال ہوا کہ نظر کوئی چیز ہے یا نہیں ؟ آپ نے لکھوایا:۔انسان کی نظر میں ضرور اثر ہے۔اور احادیث سے بھی ثابت ہے اور اس کا علاج دعا ہے۔طبی طور پر سے بھی ثابت ہے کہ نظر میں ایک طاقت ہوتی ہے۔“ (الفضل 13 مئی 1916ء)