بدرسوم و بدعات — Page 56
95 94 نماز کے بعد ہاتھ اٹھانا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔میں دیکھتا ہوں کہ آج کل لوگ جس طرح نماز پڑھتے ہیں وہ محض ٹکریں مارنا ہے۔ان کی نماز میں اس قدر بھی رقت اور لذت نہیں ہوتی جس قدرنماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا میں ظاہر کرتے ہیں۔کاش! یہ لوگ اپنی دعائیں نماز میں ہی کرتے شاید ان کی نمازوں میں حضور اور لذت پیدا ہو جاتی۔اس لئے میں حکماً آپ کو کہتا ہوں کہ سردست آپ بالکل نماز کے بعد دعا نہ کریں اور وہ لذت اور حضور جو دعا کے لئے رکھا ہے دعاؤں کو نماز میں کرنے سے پیدا کریں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ نماز کے بعد دعا کرنی منع ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب تک نماز میں کافی لذت اور حضور پیدا نہ ہونماز کے بعد دعا کرنے میں نماز کی لذت کومت گنوا ؤ۔ہاں جب یہ حضور پیدا ہو جاوے تو کوئی حرج نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 4 ص 29) | شب برات، بارہ وفات، گیارہویں اور دیگر محرم کی رسوم حضرت خلیفہ امسیح الاول نوراللہ مرقدہ نے فرمایا:۔شب برات کی عید، گیارھویں، بارہ وفات ،محرم کے معاملات جو موجودہ شرع اسلام میں ثابت نہیں۔“ محرم کی رسومات کے متعلق ایک شخص کا تحریری سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ محرم کے دنوں میں امامین کی روح کو ثواب پہنچانے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اس پر آپ نے فرمایا:۔عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میت کو پہنچتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرک کی رسومات نہیں چاہئیں۔رافضیوں کی طرح رسومات کرنا جائز نہیں ہے۔“ بعض لوگ محرم کی دسویں کو شربت اور چاول تقسیم کرتے ہیں۔حضرت قاضی ظہور ین صاحب اکمل مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا تھا کہ اگر دسویں محرم کو شربت اور چاول کی تقسیم اللہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے۔اس پر آپ نے فرمایا:۔ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم و بدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں پس اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ابتداء میں اسی خیال سے ہو مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے۔“ تاریخوں اور دنوں کو منحوس سمجھنا ( ملفوظات جلد 5 ص 168) بعض لوگ ہندوؤں اور رافضیوں کے میل جول کے سبب سے بعض دنوں کو اچھا اور بعض کو منحوس اور بُرا سمجھتے ہیں حالانکہ دنوں میں کوئی نحوست اور بُرائی نہیں۔سب دن اور سب اوقات اللہ تعالیٰ نے اچھے بنائے ہیں نحوست تو انسان کے اپنے اعمال میں ہے۔دنوں اور تاریخوں کو بُراسمجھنا درست نہیں۔نجومیوں اور رمالوں سے لوگ اچھی اور بُری تاریخیں پوچھتے ہیں اور وہ ستاروں کی غالب تاثیرات کے اچھا یا بُرا ہونے کے قائل ہوتے ہیں اور لوگ ان کی باتوں کو سچ سمجھ لیتے ہیں حالانکہ اچھی یا بری تقدیر سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ستارے اور گردش افلاک بھی اللہ تعالیٰ کے حکم اور قانون کے ماتحت ہیں۔پس اللہ تعالیٰ سے ہی دعا کرتے رہنا اور صدقات دیتے رہنا چاہئے تاکہ انسان اپنے اعمال کی نحوستوں اور بلاؤں سے محفوظ رہے۔صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ۔