بدرسوم و بدعات — Page 58
99 98 حضرت خلیفہ امسح الرابع رحمہ للہ تعالی سے سال ہوا کہ کیا نظر گنا بھی ہے؟ جواب :۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نظر لگ جاتی ہے مگر میں نے جو غور سے دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ توجہ کا اثر پڑتا ہے اسے مسمریزم کہتے ہیں نظر لگنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کا بچہ ہی نہ ہو کوئی کہہ دے کسی عورت نے نظر ڈال دی ہے مگر کھانا کھاتے وقت بعض دفعہ لوگوں کے ہاتھ سے لقمہ گر جایا کرتا ہے ہمارے ابا جان کو بالکل وہم کوئی نہیں تھا لیکن ہماری ایک بہن کے متعلق کہا کرتے تھے کہ میں جب لقمہ کھاتا ہوں تو جب یہ توجہ کرے تو میرے ہاتھ سے گر جاتا ہے اور واقعتاً وہ بات ٹھیک نکلی تو نظر لگنے کا اتنا مطلب ہے کہ مسمریزم ٹائپ کی چیز ہے مگر باقی جو وہم ہیں وہ فضول ہیں کہ نظر لگ گئی ہے فلاں کا بچہ نہیں ہورہا یہ سب جھوٹ ہے۔( لجنہ سے ملاقات۔الفضل یکم جولائی 2000 صفحہ 4 ریکارڈنگ 7 نومبر 1999ء) سوال : حضور سننے میں آیا ہے کہ نظر لگ جاتی ہے۔اگر لگ جاتی ہے تو اس سے محفوظ رہنے کے لئے کیا کیا جائے؟ جواب : یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے کہ نظر لگتی ہے ویسے نظر کوئی چیز نہیں ہے لیکن انسان بعض دفعہ دوسرے کے نفسیاتی اثر میں آجاتا ہے یہ جادوگری نہیں ہے جس طرح جاہل لوگ خیال کرتے ہیں بلکہ پیرا سائیکولوجی کی ایک قسم ہے اگر کوئی توجہ سے دیکھ رہا ہو اور آپ اس کے اثر کے نیچے آجائیں تو بعض دفعہ کانپ کر ہاتھ سے پیالی گر جاتی ہے لقمہ گر جاتا ہے تو یہ نظر لگنا ہے مگر یہ وہم ہے کہ بچوں کو نظر لگتی ہے کئی بیمار ہو جاتے ہیں بچوں کا علاج کروانا چاہئے اور دعا کرنی چاہیئے۔مجلس عرفان - الفضل 13 اپریل 2000 ، صفحہ 3۔ریکارڈنگ 4 فروری 2000ء) زنانہ وضع اور لباس اختیار کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔بعض ایسے پیر بھی دیکھے گئے ہیں جو بالکل زنانہ لباس رکھتے ہیں یہاں تک کہ رنگین کپڑے پہننے کے علاوہ ہاتھوں میں چوڑیاں بھی رکھتے ہیں۔پھر ایسے لوگوں کے بھی بہت سے مرید پائے جاتے ہیں۔اگر کوئی ان سے پوچھے کہ آنحضرت ﷺ نے کب ایسی زنانہ صورت اختیار کی تھی تو اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔وہ ایک نرالی شریعت بنانا چاہتے ہیں اور آنحضرت عیہ کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور اختیار سے ایک راہ بنانا چاہتے ہیں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس قسم کی باتیں شعائر اسلام میں سے نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں نے یہ امور بطور رسوم ہندوؤں سے لئے ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ اور بھی بہت سی کا باتیں ہیں جو انہیں سے لی گئی ہیں جیسے دم کشی وغیرہ۔“ ونی ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 417) یہ بھی ایک بدرسم ہے۔اس سے پر ہیز کرنا چاہیے۔ونی یا سوارہ ایک رسم کے نام ہیں۔صلح کی خاطر جرگہ یا پنچایت کے ذریعہ بطور ہر جانہ لڑکیاں مخالف فریق کو دی جاتی ہیں بعض اوقات تو کم سن لڑکیاں بڑی عمر کے لوگوں سے بیاہ دی جاتی ہیں۔رجب کے کونڈے 22 رجب کو پوریاں پکا کر کونڈوں میں بھر کر حضرت امام جعفر کے نام پر فاتحہ دلائی جاتی ہے۔اس خیال سے کہ اس سے ہر مشکل رفع ہو جاتی ہے اور ہر کام آسان ہو جاتا ہے۔یہ درست نہیں ہے۔