بدرسوم و بدعات — Page 46
76 75 یہ چھوٹی سی دعا تم سیکھ لو تمہیں عربی نہیں آتی یہ ہر جگہ کام آئے گی۔اور نماز میں بھی کام آئے گی۔چنانچہ کم علمی کی بناء پر ہندوؤں کی تعلیم وتربیت کی خاطر ہمارے صوفیاء اور بزرگوں نے یہ طریق اختیار کیا اور جب ( دین حق) زیادہ پھیل گیا۔جب ( دین حق ) تعلیم عام اور روشن ہو گئی تو ان کو سنت کی طرف واپس لے جاتے اور یہی کوشش ہم کر رہے ہیں۔اس کے سوا چالیسواں ہے، گیارہویں ہے، شیر مینیاں بانٹنا ہے، وفات کے بعد کھیر میں تقسیم کرنا ہے کھانے دینے ہیں۔اتنے جھگڑے ہیں جن کو کوئی وجود قرون اولی کے ( دین حق ) میں نہیں ملتا۔اور یہ تو جذباتی بات ہے کہ ہمارے برزگ غلط نہیں ہو سکتے۔یہ تو ایسی بات ہے جیسے قرآن کریم بار بار کہتا ہے کہ ( دین حق) کے مخالف یہ کہا کرتے تھے کہ کیا ہمارے بزرگ غلط تھے۔قرآن فرماتا ہے کہ تمہارے بزرگ کیوں غلط نہیں ہو سکتے۔صرف وہی غلط نہیں جس پر الہام نازل ہوتا ہے۔وہی درست ہوتا ہے جس کو خدا روشنی عطا فرماتا ہے۔اس میں اختلاف کی وجہ مجھے سمجھ نہیں آتی۔میں تو آپ کو یہ پیغام دیتا ہوں اور جماعت احمد یہ یہ پیغام دیتی ہے کہ ہمارے لئے سنت کافی ہونی چاہیے کیونکہ سنت میں مذہب کی تکمیل ہوگئی۔حسن کامل میں نہ اضافہ ہوسکتا ہے اور نہ اس میں کمی ہو سکتی ہے۔اس لئے بعد کی رسموں نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔( دین حق) سے رفتہ رفتہ ہم دور اس لئے گئے ہیں کہ بعد کی رسمیں جاری کی گئیں خواہ نیک نیتی سے جاری کی گئی تھیں ہم ان کو خالی برتنوں کی طرح لے کر بیٹھ گئے ہیں۔اس لئے رسم و رواج سے باہر نکلیں سنت کو قائم کریں۔قرون اولیٰ کے ( دین حق ) کی طرف واپس آجائیں۔بیاہ شادی میں سادگی (اختیار) کریں۔موت اور تدفین میں سادگی کریں۔یہ سارے بوجھ آپ سے اتر جائیں گے جو بلاوجہ پڑے ہوئے ہیں۔فرمایا: رسول اکرم ﷺ کی سنت تھی کہ نماز جنازہ پڑھتے تھے اور دعا کرتے تھے اور ایک دوسرے سے ہمدردی کرتے تھے۔ہم بھی یہی کرتے ہیں۔اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔سوال کرنے والے دوست نے کہا کہ فاتحہ خوانی تو ہے ہی دعا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ دعا کی خاطر سورۃ فاتحہ ہم بھی پڑھ لیتے ہیں لیکن میں تو رسم کے خلاف ہوں۔جب کہیں تعزیت کے لئے جاتے ہیں اور میں کئی دفعہ گیا ہوں۔ایک آدمی ہاتھ اٹھاتا ہے۔سارے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔یہ کوئی فاتحہ خوانی ہے؟ یہ غلط طریق ہے۔فاتحہ کی دعا معنی خیز ہے۔دعا میں دل حرکت کرتا ہے تو دعا قبول ہوتی ہے۔دعا کوئی رسم تو نہیں۔فاتحہ کے معنی | آنے چاہییں۔انسان سوچ سمجھ کر اللہ تعالیٰ کی صفات میں ڈوب کر اس سے ایاک نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی التجاء کرے۔اس پہلو سے دعا کے طور پر فاتحہ پڑھنا ہر گز منع نہیں۔لیکن یہ جو رسم بنی ہوئی ہے کہ ضرور پڑھو اور دیکھا دیکھی پڑھو اور جب بھی کوئی آدمی جائے تو ایک آدمی ہاتھ اٹھائے سارے اٹھالیں۔یہ بالکل بے بنیاد ہے۔اس کی ( دین حق ) میں کوئی سند نہیں۔یہ (دین حق ) کے ساتھ تمسخر ہے۔اس لئے ہم آپ سے یہ گذارش کرتے ہیں کہ ہم سے ناراض ہونے کے بجائے آپ اپنی اصلاح کریں۔آخر اس دین میں حرج کیا ہے جو محمد رسول اللہ علیہ نے عملا کر کے دکھایا تھا۔وہ ہمارے لئے کیوں کافی نہیں ہونا چاہیے۔“ ( مصباح جولائی اگست 2009ء صفحہ 108 تا 110 ) | رسم چہلم ایک رسم چہلم کی ہے جس میں کسی عزیز یا دوست یا بزرگ کی وفات کے چالیسویں دن مجلس جمائی جاتی ہے اور کھانا پکا کر مرنے والے کے نام پر لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔اس رسم کی بھی قرآن و حدیث اور صحابہ کرام اور اولیاء عظام کے اقوال میں کوئی سند نہیں ملتی محض ایک رسم ہے جو اسلام کے سادہ اور دلکش چہرہ کو بگاڑ کر قائم کر لی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم کی رسم کے متعلق فرماتے ہیں۔وو 66 یہ رسم سنت سے باہر ہے۔“ بدر 14 فروری 1907ء) |