بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 45 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 45

74 73 نہیں ہے یہ بدعت ہے۔آنحضرت عے سے یہ ثابت نہیں کہ اس طرح صف بچھا کر بیٹھتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے۔“ ( ملفوظات جلد 3 ص 606) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے سوال پیش ہوا کہ کسی کے مرنے کے بعد چند روز لوگ ایک جگہ جمع رہتے اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں جو دعائے مغفرت ہے اس میں کیا مضائقہ ہے۔فرمایا:۔پھر یہ سوال ہے کہ آیا نبی کریم علی یا صحابہ کرام وائمہ عظام میں سے کسی نے یوں کیا ؟ جب نہیں کیا تو کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ بدعات کا دروازہ کھولنے کی ؟ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ اس رسم کی کچھ ضرورت نہیں نا جائز ہے۔جو جنازہ میں شامل نہ ہوسکیں وہ اپنے طور سے دعا کریں یا جنازہ غائب پڑھ دیں۔" ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 214،213) حضور سے جب یہ پوچھا گیا کہ فاتحہ خوانی کی شریعت میں اصل ہے یا کوئی نہیں تو آپ نے فرمایا:۔نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے نہ قرآن شریف میں نہ سنت میں عرض کیا گیا کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ دعائے مغفرت ہی ہے؟ فرمایا: نہ استقاط درست ہے نہ اس طریق سے دعا ہے کیونکہ بدعتوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص 16) ایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ احمدی حضرات کسی غیر احمدی کی وفات پر جا کر فاتحہ خوانی کیوں نہیں کرتے ؟ اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے فرمایا: ” ہم ہر مسلمان کی وفات پر اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ان کے گھر جاتے ہیں۔فاتحہ خوانی جس کو آپ کہتے ہیں ہمیں اس فاتحہ خوانی کے لفظ سے اختلاف ہے۔فاتحہ خوانی کی اصطلاح آنحضرت علی یا خلفائے راشدین کے زمانے میں کہیں نہیں۔ملتی۔ایک بھی حدیث آپ ایسی پیش نہیں کر سکتے۔نہ قرآن کریم میں سے دکھا سکتے ہیں که قرونِ اولیٰ کے مسلمان دوسروں کے گھر جا کر جن کے گھر وفات ہوئی ہو ہاتھ اٹھا کر فاتحہ خوانی کی ہو۔ہم آپ کو یہ سمجھاتے ہیں کہ (دین حق) میں نئی رسمیں نہ چلائیں۔حضور اکرم ﷺ کا دین ہی کافی ہے۔( دین حق ) وہی حسین ( دین حق ) ہے جو سنت سے ثابت ہے اس سے باہر جب بھی قدم رکھیں گے رسم و رواج میں پڑ جائیں گے۔سوال کرنے والے نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جو ہمیں بتایا۔وہ زیادہ ( دین حق ) جانتے تھے یا نہیں جانتے تھے کہ اس کی ابتداء کب اور کیوں ہوئی ؟ اس میں نقص کیا ہے؟ حضور نے فرمایا: نقص یہی ہے کہ جو چیز سنت سے زائد ہو وہ ( دین حق ) نہیں ہے۔سوال کرنے والے نے پھر کہا کہ کیا ہمارے بزرگ غلط تھے؟ حضور نے فرمایا کہ: کیا محمد رسول اللہ اللہ اور آپ کے صحابہ غلط تھے؟ کیا عجیب بات آپ کرتے ہیں۔سوال کرنے والے نے پھر پوچھا کہ کیا یہ رسم ہے؟ حضور نے فرمایا ہاں یہ رسم ہے۔ہر وہ چیز جو سنت نہیں وہ رسم ہے۔جو رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ سے ثابت نہ ہو وہ رسم ہے۔رسمیں اچھی بھی ہوسکتی ہیں اور بری بھی ہوسکتی ہیں لیکن سنت نہیں بن سکتیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب پرانے بزرگ ہندوستان میں تشریف لائے تو وہاں بے انتہاء جہالت تھی۔ہندو مذہب کی وجہ سے بد رسوم بے حد رائج تھیں۔زبان کے اختلاف کی وجہ سے اور دوسرے مسائل کی وجہ سے وہ کسی بہانے سے ان کو کم سے کم دینی تعلیم دینا چاہتے تھے۔۔اس کی وجہ سے کئی چیزیں نیک نیتی سے داخل ہوئی ہوئی ہیں لیکن بعد میں رسمیں بن گئیں۔مثلاً سورۃ فاتحہ کاسکھانا اور فاتحہ کو بطور دعا کے پڑھانا۔فرمایا: مجھے یقین ہے کہ اسی طرح انہوں نے شروع کیا ہوگا اور کہا ہوگا کہ جب تم کسی بزرگ کے لئے یا کسی فوت شدہ کے لئے دعا کرتے ہو تو چونکہ سورۃ فاتحہ کامل دعا ہے