بدرسوم و بدعات — Page 47
78 77 ختم قرآن اسی طرح ایک رسم ختم قرآن کی ہے۔ختم قرآن سے مراد وہ رسمی قرآن خوانی ہے جو کسی فوت ہونے والے کے ثواب کی خاطر حلقہ باندھ کر گھروں میں یا قبروں پر کی جاتی ہے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ فرماتے ہیں۔وو " مُردہ پر قرآن ختم کرانے کا کوئی ثبوت نہیں۔صرف دعا اور صدقہ میت کو پہنچتا ہے۔“ دوسری جگہ فرماتے ہیں۔( بدر 14 مارچ 1904ء) قرآن شریف جس طرز سے حلقہ باندھ کر پڑھتے ہیں یہ سنت سے ثابت نہیں ملاں لوگوں نے اپنی آمد کے لئے یہ رسمیں جاری کی ہیں۔“ (الحکم 10 نومبر 1907 ء بحوالہ الفضل 12 مئی 1940ء) خدا تعالیٰ کے پاک کلام قرآن کو نا پاک باتوں سے ملا کر پڑھنا بے ادبی ہے۔وہ تو صرف روٹیوں کی غرض سے ملاں لوگ پڑھتے ہیں۔اس ملک کے لوگ ختم وغیرہ دیتے ہیں تو ملاں لوگ لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہیں کہ شور با اور روٹی زیادہ ملے۔وَلَا تَشْتَرُوا بِايْتِي ثَمَنًا قَلِيلاً (البقره: 42) کیا آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا۔؟ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار روٹی پر پڑھتے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 158 و 161 و 162 ) سوئم ، چالیسواں ختم قرآن، آیت کریمہ کے ختم حضرت خلیفہ امسیح الرابع " سے کراچی میں ایک دفعہ مجلس عرفان میں یہ سوال ہوا کہ آپ لوگ سوئم ، چالیسواں، ختم قرآن ، آیت کریمہ کے ختم پڑھنے اور باداموں کے ختم کو کیوں نہیں مانتے؟ حضور نے فرمایا کہ یہ مذہبی بگاڑ اور قومی تنزل کی علامتیں ہیں۔واقع یہ ہے کہ ہم وہی ختم مانتے ہیں جو ختم رسول کریم علیہ سے ثابت ہو اور نہ اس سے سوا ہمارا کوئی اور عقیدہ ہے۔بعض دفعہ نیکی کے نام پر بھی غلط رسمیں رائج ہو جاتی ہیں اور وہ فائدہ پہنچانے کی بجائے نقصان پہنچایا کرتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے اور اس عقیدہ پر ہم بڑی شرح صدر سے قائم ہیں اور اس میں ہم کبھی تبدیلی نہیں کر سکتے کہ آنحضرت عے پر دین کامل ہو گیا اور آپ کا اسوہ حسنہ ہی ہمیشہ کے لئے تقلید کے لائق ہے یا ان صحابہ کا اسوہ حسنہ جنہوں نے آپ سے تربیت پائی۔ان کے سوا تو قرآن میں اور کسی کا اسوہ ماننے کا کہیں حکم نہیں ہے، نکال کر دکھا دیجئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امی کے آخری نمونہ ہیں جن کی پیروی لازمی قرار دے دی گئی اور کسی اور کی پیروی تب ہم کریں گے اگر وہ حضور اکرم کی پیروی کرے گا ورنہ نہیں کریں گے تو یہ ساری چیزیں جن کا ذکر ہے ، سوئم ، چالیسواں گٹھلیوں پر قرآن پھونکنا، ختم قرآن ، باداموں پر پڑھنا ان میں سے ایک بھی چیز حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے صحابہ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں تھیں اور اس بارے میں شیعہ سنی روایات میں اختلاف ہی کوئی نہیں متفق علیہ ہیں۔کہ حضرت اقدس محمد مصطفی میں ہے ، آپ کے خلفاء راشدین، آپ کے صحابہ کے وقت یہ رسمیں نہیں تھیں۔تو قرآن ان سے بہتر کون سمجھتا تھا ؟ قرآن سے زیادہ پیار کرنے والے بعد میں پیدا ہوئے ؟ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ۔قرآن کے استعمال کا اچھا طریق بتانے والے اس وقت نہیں تھے، اب آگئے ؟ اس کو ہم کسی قیمت پر مان ہی نہیں سکتے۔جو مرضی آپ کہیں۔آپ کہتے ہیں نعوذ باللہ تم قرآن کے دشمن ہو۔اگر یہ ختم نہ کرنا قرآن کی دشمنی ہے تو پھر حضرت محمد مصطفی علیہ اور آپ کے صحابہ پر بھی زبان کھلے گی۔وہ بھی تو نہیں کرتے تھے یہ گٹھلیاں اور بادام تنزل کی علامتیں ہیں۔جب قو میں بگڑتی ہیں تو رسم ورواج بن جایا کرتی ہیں۔“ مجلس عرفان کراچی 7 فروری 1983 ء)