بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 42 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 42

68 67 وہ کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کرسکتا کہ ہ اب دوسرا خاوند کرے۔ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جائے ہاں اس بد رسم کو مٹا دینا چاہئے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبر ارکھا جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 320) بیوہ کا شادی کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کوئی بڑا بھارا گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہوگئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے جو بیوہ ہونے کی حالت میں برے خیالات سے ڈر کر کسی سے نکاح کرلے اور نابکار عورتوں کے لعن طعن سے نہ ڈرے ایسی عورتیں جو خدا اور رسول کے حکم سے روکتی ہیں خود لعنتی اور شیطان کی چیلیاں ہیں جن کے ذریعہ سے شیطان اپنا کام چلاتا ہے۔جس عورت کو اللہ اور رسول پیارا ہے اس کو چاہئے کہ بیوہ ہونے کے بعد کوئی ایماندار اور نیک بخت خاوند تلاش کرے اور یا در کھے کہ خاوند کی خدمت میں مشغول رہنا بیوہ ہونے کی حالت کے وظائف سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد 1 ص 85،84) تنبول ( نیندرہ) ڈالنا پارید ایک رسم تنبول نیندرہ ڈالنا ہے۔اگر اس کا مقصد یہ ہو کہ کل میرے ہاں شادی کے موقع پر یہ شخص مجھ کوزیادہ دے تو منع ہے اور اگر غرض یہ ہے کہ اس کی امداد کی جائے تو جائز ہے۔قرآن شریف میں ہے۔وَلَا تَمُنُنُ تَسْتَكْثِرُ (المدر : ج ) ترجمہ: تو کسی پر ایسا احسان نہ کر جس میں تو اس احسان سے زیادہ لینے کی خواہش رکھے۔دودھ پلانا اور جوتی چھپانا وغیرہ ر بعض دوسری بد رسوم جیسے دودھ پلانا اور جوتی چھپانا وغیرہ جو ہیں یہ بھی سب ختم کروائیں اور ہر فرد جماعت کو اس بارہ میں متنبہ کردیں کہ آئندہ اگر مجھے کسی کی بھی ان رسموں کے بارہ میں کوئی شکایت آئی تو اس کے خلاف تعزیری کاروائی ہوگی۔“ خط حضور انور بتاریخ 22 جنوری 2010ء) |