بدرسوم و بدعات — Page 41
66 65 باپ غریب ہیں زیادہ جہیز نہیں دے سکے اور مجھے ہر وقت سرال سے طعنے ملتے ہیں۔حضور نے فرمایا میری احباب جماعت کو نصیحت ہے کہ اول تو جہیز کو بہت اہمیت نہ دیں لڑکی اچھی صورت اچھی سیرت کی ہو، اس کے بعد کسی جہیز کا مطالبہ کرنا بالکل نا جائز ہے۔آنحضور علی کی سنت پر عمل کریں کہ کس طرح سادہ کپڑوں میں آپ نے اپنی بیٹی کو رخصت کیا تھا۔“ الفضل انٹرنیشنل 24 جنوری 2003ء) بری یا جہیز کی نمائش حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں۔شادی بیاہ کے موقع پر بعض فضول قسم کی رسمیں ہیں۔جیسے بری دکھانا یا وہ سامان جو دولہا والے دولہن کے لئے بھیجتے ہیں اس کا اظہار، پھر جہیز کا اظہار۔با قاعدہ نمائش لگائی جاتی ہے۔تو صرف حق مہر کے اظہار کے ساتھ نکاح کا اعلان کرتا ہے۔باقی سب فضول رسمیں ہیں صرف رسموں کی وجہ سے، اپنا ناک اونچا ر کھنے کی وجہ سے غریبوں کو مشکلات میں، قرضوں میں نہ گرفتار کریں اور دعوی یہ کہ ہم احمدی ہیں اور بیعت کی دس شرائط پر پوری طرح عمل کریں گے۔تو یہ مختصراً میں نے ایک شادی کی رسم پر ہی خوفناک بھیانک نتائج سامنے لانے والی اور بہت سی مثالیں مل سکتی ہیں اور جب رسمیں بڑھتی ہیں تو پھر انسان بالکل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ مکمل طور پر ہوا و ہوس کے قبضہ میں چلا جاتا ہے جبکہ بیعت کرنے کے بعد تو وہ عہد کر رہا ہے کہ ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور اللہ اور اس کے رسول حملہ کی حکومت مکمل طور پر اپنے اوپر طاری کر لے گا۔اللہ اور رسول ہم 66 سے کیا چاہتے ہیں ، یہی کہ رسم ورواج اور ہوا و ہوس چھوڑ کر میرے احکامات پر عمل کرو۔“ شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ 101 تا 103 ) حلالہ حرام ہے حلالہ کی گندی رسم کے بارہ میں حضرت رسول کریم ﷺ کی حدیث ہے عن جَابِرٍ وَعَلِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ عَلَ الله لَعَنَ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ (ترمذی ابواب النكاح باب ماجاء فى لمحل والمحلل له ( حضرت جابر اور حضرت علی 1 سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلالہ کرنے اور کروانے والے دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں :۔قرآن کریم کی رو سے جب تین طلاق دے دی جاویں تو پہلا خاوند اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ کسی اور کے نکاح میں آوے اور پھر وہ دوسرا خاوند بلاعم اسے طلاق دے دے اگر وہ عمداً اسی لئے طلاق دے گا کہ اپنے پہلے خاوند سے وہ پھر نکاح کر لیوے تو یہ حرام ہوگا کیونکہ اسی کا نام حلالہ ہے۔جو کہ حرام ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 215) | بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرنا بد رسم ہے ایک شخص کا سوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا کہ بیوہ عورت کے نکاح کے بارے کیا ہدایات ہیں فرمایا۔بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔چونکہ بعض قو میں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلی ہوئی ہے اس واسطے بیوہ کے نکاح کا حکم ہوا ہے۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے۔نکاح تو اسی کا ہو گا جو نکاح کے لائق ہے اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا ایک