بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 43 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 43

70 69 وفات سے متعلقہ رسوم اور دینی تعلیمات احمدیت سے باہر کے معاشرے میں بہت سی بد رسوم رائج ہیں۔مثلا رونا پیٹنا، بے صبری کے کلمات زبان پہ لانا ، تین دن سے زیادہ سوگ منانا، سیا پا کرنا ، ان ایام میں بے جا طور پر صد ہاروپیہ ضائع کرنا، جھوٹے اور مصنوعی خاندانی وقار کے لئے نیز نمود و نمائش کے لئے زردہ پلاؤ پکانا اور برادری میں تقسیم کرنا، بیوہ کا نکاح نہ کرنا۔مجلس فاتحہ خوانی قائم کرنا، قرآن شریف کو حلقہ باندھ کر چکر دینا ، رسم قل اور چہلم کرنا ، نیاز پکانا۔میت کے ساتھ ، روٹیاں چھوہارے نمک اور غلہ لے جانا، میت پر کپڑے کی چادریں ڈالنا ، میت کے کفن پر کلمہ وغیرہ لکھنا یا لکھ کر میت کے سرہانے رکھنا ، میت کے ساتھ پنجسورہ یا قرآن دفن کرنا، برسی منانا، قبروں پر پھول چڑھانا، نیز قبروں پر چراغ جلانا ، مقررہ ایام میں ایصال ثواب کے لئے پکانا، قبروں پر پرندوں کے لئے پانی کے کٹورے رکھنا اور اناج پھینکنا، اس طرح کی بیسیوں رسمیں ہندوؤں، عیسائیوں اور دیگر قوموں کے میل جول کے نتیجہ میں ہمارے معاشرے میں گھس آئی ہیں۔لوگوں نے اپنے آپ کو ان رسوم اور بدعات کی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔غریب زیادہ مجبور ہیں۔مہنگائی کے دور میں قرض اٹھا کر بھی رسومات ادا کرنی پڑتی ہیں۔الحمد للہ احمدی معاشرہ اس سے پاک ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔جماعت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ نبی کے موقعوں پر جو رسوم ہیں ان سے تو بچے ہوئے ہیں۔ساتواں دسواں، چالیسواں ، یہ غیر احمدیوں کی رسمیں ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔جو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ یہی ہوتا ہے کہ یہ رسمیں گھر والوں پر بوجھ بن رہی ہوتی ہیں۔لیکن اگر معاشرے کے زیر اثر ایک قسم کی بدرسومات میں مبتلا ہوئے تو دوسری قسم کی رسومات بھی راہ پاسکتی ہیں اور پھر اس قسم کی باتیں یہاں بھی شروع ہو جائیں گی۔“ رونا پیٹنا اور بے صبری کی باتیں کرنا (خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010ء) | ایک رسم یہ ہے کہ جب کسی کے ہاں کوئی وفات ہو جاتی ہے۔تو لوگ روتے پیٹتے اور چلا چلا کر ہائے ہائے کرتے ہیں عورتیں بہت بے صبری سے روتی چلاتی اور چھاتی اور سرکو پیٹتی ہیں بعض سات دن تک بعض ایک ماہ تک اور بعض ایک سال تک سوگ مناتے رہتے ہیں۔حضوراکرم علیہ فرماتے ہیں۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَ شَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ترجمہ : وہ ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے گریبان پھاڑے اور جہالت کی باتیں کرے (بخاری کتاب الجنائز باب ليس من شق الجيوب) ہر مصیبت میں انا للہ پڑھنا چاہئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرہ: 156 تا 158) ترجمہ : اے پیغمبران صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے جنہیں جب بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں اور رحمت بھی اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔اسی طرح فرمایا:۔