بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 40 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 40

64 63 مقرر کیا ہے اس کے علاوہ لڑکی والوں کی طرف سے زیور اور کپڑے کا مطالبہ ہونا بے حیائی ہے اور لڑ کی بیچنے کے سوا اس کے اور کوئی معنی میری سمجھ میں نہیں آئے۔۔۔میں آئندہ کے لئے اعلان کرتا ہوں کہ اگر مجھے علم ہو گیا کہ کسی نکاح کے لئے زیور اور کپڑے وغیرہ کی شرائط لگائی گئی ہیں یالڑ کی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا۔“ ( خطبہ نکاح 27 مارچ 1931 ء بحوالہ الفضل 7 اپریل 1931ء ) جہیز وغیرہ کی شرطیں حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ نے فرمایا:۔دو لیکن اس میں بعض دفعہ ایسی غیر معقول باتیں کرتے ہیں اور ایسی لغو شرطیں لگاتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔مثلاً بعض لوگ جہیز کی شرطیں لگاتے ہیں۔اتنا سامان ہو تو ہم شادی کریں گے۔یہ سب لغو ہے۔میں متواتر سالہا سال سے جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ ان کی اصلاح کی جائے۔اگر جماعت کے لوگ اس طرف توجہ کریں تو بہت جلد اصلاح ہوسکتی ہے۔اگر وہ عہد کر لیں کہ ہر ایسی شادی جس میں فریقین میں سے کسی کی طرف سے بھی ایسی شرطیں عائد کی گئی ہوں تو ہم اس میں شریک نہ ہوں گے تو دیکھ لو تھوڑے ہی عرصہ میں وہ لوگ ندامت محسوس کرنے لگیں گے اور ان شفیع حرکات سے باز آجائیں گے۔بھلا اس سے زیادہ اور کیا ذلیل کن بات ہو سکتی ہے کہ لڑکیوں کے چارپایوں کی طرح سودے کئے جائیں اور منڈی میں رکھ کر ان کی قیمت بڑھائی جائے۔پس ہماری جماعت کو ایسی شنیع حرکات سے بچنا چاہیے 66 اور عہد کرنا چاہیے کہ ایسی شادی میں کبھی شامل نہ ہوں گے خواہ وہ سگے بھائی یا بہن کی ہو۔“ (الفضل 18 ابريل 1947 ء ) جہیز میں سادگی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں سید ہوں۔میری بیٹی کی شادی ہے۔آپ اس موقع پر میری کچھ مدد کریں۔حضرت خلیفہ اول یوں تو بڑے مخیر تھے مگر طبیعت کا رجحان ہے جو بعض دفعہ کسی خاص پہلو کی طرف ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا: میں تمہاری بیٹی کی شادی کے لئے وہ سارا سامان تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں جو رسول کریم اللہ نے اپنی بیٹی فاطمہ کو دیا تھا۔وہ یہ سنتے ہیں بے اختیار کہنے لگا۔آپ میری ناک کاٹنا چاہتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کیا تمہاری ناک محمد رسول اللہ علی کی ناک سے بڑی ہے۔تمہاری عزت تو سید ہونے میں ہے۔پھر اگر اس قدر جہیز دینے سے رسول کریم ﷺ کی بہت نہیں ہوئی تو تمہاری کس طرح ہو سکتی ہے۔“ جہیز اور بری کی رسم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں۔حیات نور - صفحہ 529، 530) اس میں شبہ نہیں کہ جہیز اور بری کی رسوم بہت بری ہے اس لئے جتنی جلدی ممکن ہو اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے“ ایسی وباء اور مصیبت جو گھروں کو تباہ کر دیتی ہے۔اس قابل ہے کہ اسے فی الفور مٹا دیا جائے میں نے دیکھا ہے اچھے اچھے گھرانے اس رسم میں بری طرح مبتلا ہیں پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ناصرف جہیز بلکہ بری بھی بری چیز ہے اپنی استطاعت کے مطابق جہیز دینا تو پھر بھی ثابت ہے لیکن بری کا اس رنگ میں جیسے کہ اب مروج ہے مجھے اب تک کوئی حوالہ نہیں ملا۔“ اوڑھنی والیوں کے لئے پھول صفحہ 48) حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم اللہ تعالٰ نے فرمایا کہ: ” مجھے ایک دکھی بچی کے خط کے حوالہ سے معلوم ہوا کہ اس نے لکھا کہ میرے ماں