بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 39 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 39

62 61 صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا ورغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقررہ مہر نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مدنظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون“ عورتوں سے مہر بخشوانا ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 284) پاک و ہند میں ایک رسم عورتوں سے مہر بخشوانے کی پائی جاتی ہے۔اس کے متعلق اصولی ہدایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمائی ہے۔یہ عورت کا حق ہے اسے دینا چاہئے اول تو نکاح کے وقت ہی ادا کر دے ورنہ بعد ازاں ادا کرنا چاہئے پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر خاوند کو بخش دیتی ہیں یہ صرف رواج ہے جو مروت پر دلالت کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 606) حضرت خلیفہ السیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا ایک واقعہ جو حق مہر بخشنے کے متعلق ہے یوں بیان فرمایا ہے۔حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ کے السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں سے ہوئے ہیں ان کی دو بیویاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا مہر شرعی حکم ہے جو عورتوں کو دینا چاہئے اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے حضرت صاحب علیہ السلام نے فرمایا۔" کیا آپ نے ان کے ہاتھ پر رکھ کر معاف کرایا تھا ؟ " کہنے لگے نہیں حضور یونہی کہا تھا اور انہوں نے معاف کر دیا حضرت صاحب نے فرمایا پہلے آپ ان کی جھولیوں میں ڈالیں پھر ان سے معاف کرائیں۔ان کی بیویوں کا مہر پانچ پانچ سور و پیہ تھا حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سورو پیدان کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے تم نے اپنا مہر مجھے معاف کیا ہوا ہے سواب مجھے یہ واپس دے دو۔اس پر انہوں نے کہا اس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے اس وجہ سے کہہ دیا تھا کہ معاف کیا۔اب ہم نہیں دیں گی۔حکیم صاحب نے آ کر یہ واقعہ حضرت صاحب کو سنایا حضرت صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور فرمانے لگے۔درست بات یہی ہے پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور اگر وہ معاف کرنا چاہے تو کر دے۔“ الازهار لذوات الخمار جلد اول صفحہ 152 ،153) مہر ادا کرنے سے قبل بیوی کی وفات ہو جائے تو ؟ ایک صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ایک شخص اپنی منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا۔اب وہ عورت مرگئی ہے خاوند کیا کرے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔اسے چاہئے کہ اس کا مہر اس کے وارثوں کو دے دے۔اگر اس کی اولاد ہے تو وہ بھی وارثوں سے ہے۔شرعی حصہ لے سکتی ہے اور علی ھذا القیاس خاوند بھی لے سکتا ہے۔“ زیور اور کپڑے وغیرہ کا مطالبہ حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں:۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 235، 236) اس امر کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ رسمیں خواہ کسی رنگ میں ہوں بری ہوتی ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں نے اگر بعض رسمیں مٹائی ہیں تو دوسری شکل میں بعض اختیار بھی کر لی ہیں۔نکاحوں کے موقع پر پہلے تو گھروں کو میں فیصلہ کر لیا جاتا تھا کہ اتنے زیور اور کپڑے لئے جائیں گے۔پھر آہستہ آہستہ ایسی شرائط تحریروں میں آنے لگیں۔پھر میرے سامنے بھی پیش ہونے لگیں۔شریعت نے صرف مہر