بدرسوم و بدعات — Page 24
34 33 رسم و رواج سے بچنا ( دین حق ) کا حصہ ہے ” رسم ورواج سے بچنا اور ہوا و ہوس سے بچنا ( دین حق ) کی تعلیم کا حصہ ہے اور اس تعلیم کو سمجھنے کے لئے ہمارے لئے رہنما قرآن شریف ہے اور اصل میں تو اگر ایک مومن قرآن شریف کو مکمل طور پر اپنی زندگی کا دستور العمل بنالے تو تمام برائیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔کسی بھی قسم کی ہوا و ہوس کا خیال تک بھی دل میں نہیں ہوتا کیونکہ یہ وہ پاک کتاب ہے جو ایک دستور العمل کے طور پر شریعت کو مکمل کرتے ہوئے ، انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے پاک دل پر نازل فرمائی اور پھر جہاں ضرورت تھی آنحضرت علیہ نے اپنے عمل سے اپنے فعل سے اپنے قول سے اس کی وضاحت فرما دی اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو اپنے سر پر قبول کرو۔“ شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں۔صفحہ 99) | فقراء کے نکالے ہوئے طریقے انسان کو بھٹکاتے ہیں ”دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : 32) خدا کے محبوب بننے کے واسطے صرف رسول اللہ علیہ کی پیروی ہی ایک راہ ہے اور کوئی دوسری راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملا دے۔انسان کا مدعا صرف ایک واحد لا شریک خدا کی تلاش ہونا چاہیے۔شرک اور بدعت سے اجتناب کرنا چاہیے۔رسوم کا تابع اور ہوا ہوس کا مطیع نہ بننا چاہیے۔دیکھو میں پھر کہتا ہوں کہ رسول اللہ یہ بھی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کامیاب نہیں ہوسکتا۔ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اس رسول پر نازل ہوا ہے اس کی تابعدادی سے ہم خدا کو پا سکتے ہیں۔آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہے۔سو تم ان سے پر ہیز کرو۔ان لوگوں نے آنحضرت علی اللہ کے خاتم الانبیاء ہونے کی مہر کو توڑنا چاہا گویا اپنی الگ شریعت بنالی ہے۔تم یا درکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ اللہ کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں۔ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔بھولا ہوا ہے وہ جو ان راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔نا کام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابع دار نہیں بلکہ اور راہوں سے اسے تلاش کرتا ہے۔“ شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں - صفحہ 105 ، 106 ) چھٹی شرط بیعت ( ماٹو شوری 2009ء) اپنے آپ کو معاشرے کے رسم ورواج کے بوجھ تلے نہ لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو آزاد کروانے آئے تھے اور آپ کو ان چیزوں سے آزاد کیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر آپ اس عہد کو مزید پختہ کرنے والے ہیں۔جیسا کہ چھٹی شرط بیعت میں ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا۔یعنی کوشش ہو گی کہ رسموں سے بھی باز رہوں گا اور ہوا و ہوس سے بھی باز رہوں گا۔تو قناعت اور شکر پر زور دی۔یہ شرط ہر احمدی کے لئے ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو۔اپنے اپنے وسائل کے لحاظ سے اس کو ہمیشہ ہر احمدی کو اپنے مد نظر رکھنا چاہئے۔“ (مشعلِ راه جلد سوم ص 155)