بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 25 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 25

36 35 خوشی اور غمی کی حدود اور قیود ہیں ایک احمدی کو جہاں اس بات سے تسلی ہوتی ہے وہاں فکر بھی ہے۔اپنے جائزے لینے کی ضرورت بھی ہے۔اس نور سے فائدہ اٹھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا (التغابن:10) کی شرط رکھی ہے کہ اللہ پر ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔پس ہمیشہ اپنے مد نظر یہ بات رکھنی چاہئے کہ کون ساعمل صالح ہے اور کون سا غیر صالح ہے۔بعض بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔مثلاً خوشیاں ہیں۔یہ دیکھنے والی بات ہے کہ خوشیاں منانے کے لئے ہماری کیا حدود ہیں اور غموں میں ہماری کیا حدود ہیں۔خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیزیں ایسی ہیں جن میں کچھ حدود اور قیود ہیں۔آج کل دیکھیں ، مسلمانوں میں خوشیوں کے موقعوں پر بھی زمانے کے زیر اثر طرح طرح کی بدعات اور لغویات راہ پاگئی ہیں اور غموں کے موقعوں پر بھی طرح طرح کی بدعات اور رسومات نے لے لی ہے۔لیکن ایک احمدی کو ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کام بھی وہ کر رہا ہے اس کا کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ نظر آنا چاہئے۔اور ہر عمل اس لئے ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدود قائم کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے ہر کام کرنا ہے۔۔۔۔ہر احمدی اپنے مقام کو سمجھے (خطبہ جمعہ 15 جنوری 2010ء) | ” جماعت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ نبی کے موقعوں پر جو رسوم ہیں ان سے تو بچے ہوئے ہیں۔ساتواں دسواں، چالیسواں ، یہ غیر احمدیوں کی رسمیں ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔جو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ یہی ہوتا ہے کہ یہ رسمیں گھر والوں پر بوجھ بن رہی ہوتی ہیں۔لیکن اگر معاشرے کے زیر اثر ایک قسم کی بدرسومات میں مبتلا ہوئے تو دوسری قسم کی رسومات بھی راہ پاسکتی ہیں اور پھر اس قسم کی باتیں یہاں بھی شروع ہو جائیں گی۔پس ہر احمدی کو اپنے مقام کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کرتے ہوئے اسے مسیح و مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اب یہ فرض | ہے کہ صحیح اسلامی تعلیم پر عمل ہو۔“ ہر عمل میں رضائے الہی مدنظر رہے (خطبہ جمعہ 15 جنوری 2010ء) ” ہر وہ عمل جو نیک عمل ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے وہ عبادت بن جاتا ہے۔اگر یہ مد نظر رہے تو اسی چیز میں ہماری بقا ہے اور اسی بات سے پھر رسومات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔بدعات سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔فضول خرچیوں سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔لغویات سے بھی ہم بچ سکتے ہیں اور ظالموں سے بھی ہم بیچ سکتے ہیں۔یہ ظلم ایک تو ظاہری ظلم ہیں جو جابر لوگ کرتے ہی ہیں۔ایک بعض دفعہ لاشعوری طور پر اس قسم کی رسم و رواج میں مبتلا ہو کر اپنی جان پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں۔اور پھر معاشرے میں اس کو رواج دے کر ان غریبوں پر بھی ظلم کر رہے ہوتے ہیں جو کہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیز شاید فرائض میں داخل ہو چکی ہے۔اور جس معاشرے میں ظلم اور لغویات اور بدعات وغیرہ کی یہ باتیں ہوں، وہ معاشرہ پھر ایک دوسرے کا حق مارنے والا ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا۔كم يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْههُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الخَبْيتَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالأغْللَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الأعراف:158) کہ جو