بدرسوم و بدعات — Page 23
32 31 تو آپ کو آزاد کروانے آئے تھے اور آپ کو ان چیزوں سے آزاد کیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر آپ اس عہد کو مزید پختہ کرنے والے ہیں۔جیسا کہ چھٹی شرط بیعت میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا۔یعنی کوشش ہو گی کہ رسموں سے بھی باز رہوں گا اور ہوا و ہوس سے بھی باز رہوں گا۔تو قناعت اور شکر پر زور دیا۔یہ شرط ہر احمدی کے لئے ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو۔اپنے اپنے وسائل کے لحاظ سے اس کو ہمیشہ ہر احمدی کو اپنے مدنظر رکھنا چاہئے۔“ رسم و رواج سے بچنے کے لئے دعا (خطبات مسرور جلد سوم ص 694) اللہ کرے کہ ہم ہر قسم کے رسم و رواج بدعتوں اور بوجھوں سے اپنے آپ کو آزاد رکھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والے ہوں۔آنحضرت علیہ کی سنت پر عمل کرنے والے ہوں اور ہمیشہ اس زمانے کے حکم و عدل کی تعلیم کے مطابق دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں۔دین کو دنیا پر مقدم کرنا بھی ایسا عمل ہے جو تمام نیکیوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے اور تمام برائیوں اور لغو رسم و رواج کو ترک کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔تو اس کی طرف بھی خاص توجہ کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔“ خطبات مسرور جلد سوم ص 699 700 رسمیں بڑھیں تو انسان اندھا ہو جاتا ہے ” جب رسمیں بڑھتی ہیں تو پھر انسان بالکل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر اگلا قدم یہ ہوتا ہے کہ مکمل طور پر ہوا و ہوس کے قبضہ میں چلا جاتا ہے جب کہ بیعت کرنے کے بعد تو وہ یہ عہد کر رہا ہے کہ ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور اللہ اور اس کے رسول علی اللہ کی حکومت مکمل طور پر اپنے اوپر طاری کر لے گا۔اللہ اور رسول ہم سے کیا چاہتے ہیں ، یہی کہ رسم و رواج اور ہوا و ہوس چھوڑ کر میرے احکامات پر عمل کرو۔“ شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں - صفحہ 93) دین سے دور لے جانے والی رسمیں رڈ کرنے کے لائق ہیں حدیث میں آپ علیہ نے فرمایا : جن رسموں کا دین سے کوئی واسطہ نہیں ہے، جو دین سے دور لے جانے والی، اللہ اور اس کے رسول کے احکامات اور ارشادات کی تخفیف کرنے والی ہیں وہ سب مردو در سمیں ہیں۔سب فضول ہیں۔رڈ کرنے کے لائق ہیں۔پس ان سے بچو کیونکہ پھر یہ دین میں نئی نئی بدعات کو جگہ دیں گی اور دین بگڑ جائے گا۔جس طرح اب دیکھو دوسرے مذاہب میں رسموں نے جگہ پا کر دین کو بگاڑ دیا ہے۔خیر یہ تو ہونا ہی تھا۔کو کیونکہ اس زمانے میں زندہ مذہب صرف اور صرف ( دین حق ) نے ہی رہنا تھا۔لیکن آپ جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ دوسرے مذاہب نے مثلاً عیسائیت نے باوجود اس کے کہ ایک مذہب ہے۔مختلف ممالک میں مختلف علاقوں میں اور ملکوں میں اپنے رسم ورواج کے مطابق اپنی رسموں کو بھی مذہب کا حصہ بنایا ہوا ہے۔افریقہ میں بھی یہ باتیں نظر آتی ہیں۔پھر جب بدعتوں کا راستہ کھل جاتا ہے تو نئی نئی بدعتیں دین میں راہ پاتی ہیں۔تو آنحضرت ﷺ نے ان بدعتیں پیدا کرنے والوں کے لئے سخت انذار کیا ہے سخت ڈرایا ہے۔آپ کو اس کی بڑی فکر تھی۔حدیث میں آتا ہے فرمایا : میں تمہیں ان بدعتوں کی وجہ سے ، تمہارے ہوا و ہوس کا شکار ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ خوف زدہ ہوں مجھے ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے دین میں بگاڑ نہ پیدا ہو جائے۔تم گمراہ نہ ہو جاؤ“ شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں۔صفحہ 96)