بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 22 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 22

30 29 کہہ دیا ہے کہ اگر اس طرح کی حرکتیں ہوں گی تو بہر حال پکڑ ہوگی۔لیکن بعض برائیاں ایسی ہیں جو گو کہ برائیاں ہیں لیکن ان میں یہ شرک یا یہ چیزیں تو نہیں پائی جاتیں لیکن لغویات ضرور ہیں اور پھر یہ رسم و رواج جو ہیں یہ بوجھ بنتے چلے جاتے ہیں۔جو کرنے والے ہیں وہ خود بھی مشکلات میں گرفتار ہو رہے ہوتے ہیں اور بعض جو ان کے قریبی ہیں ، دیکھنے والے ہیں ، ان کو بھی مشکل میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ان میں جہیز ہیں، شادی کے اخراجات ہیں، ولیمے کے اخراجات ہیں، طریقے ہیں اور بعض دوسری رسوم ہیں جو بالکل ہی لغویات اور بوجھ ہیں۔ہمیں تو خوش ہونا چاہئے کہ ہم ایسے دین کو ماننے والے ہیں جو معاشرے کے قبیلوں کے، خاندان کے رسم و رواج سے جان چھڑانے والا ہے۔ایسے رسم و رواج جنہوں نے زندگی اجیرن کی ہوئی تھی۔نہ کہ ہم دوسرے مذاہب والوں کو دیکھتے ہوئے ان لغویات کو اختیار کرنا شروع کر دیں۔تم خوش قسمت ہو کہ ان بوجھوں سے آزاد ہو تم ایسے دین اور ایسے نبی کو ماننے والے ہو جو تمہارے بوجھ ہلکے کرنے والا ہے۔جن بے ہودہ رسم و رواج اور لغو حرکات نے تمہاری گردنوں میں طوق ڈالے ہوئے ہیں، پکڑا ہوا ہے، ان سے تمہیں آزاد کرانے والا ہے۔تو بجائے اس کے کہ تم اُس دین کی پیروی کرو جس کو اب تم نے مان لیا ہے اور اُن طور طریقوں اور رسوم ورواج اور غلط قسم کے بوجھوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو، ان میں دوبارہ گرفتار ہور ہے ہو۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تم تو خوش قسمت ہو کہ اس تعلیم کی وجہ سے ان بوجھوں سے آزاد ہو گئے ہوا اور اب فلاح پا سکو گے، کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی، نیکیوں کی توفیق ملے گی۔پس ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تو ان رسموں اور لغویات کو چھوڑنے کی وجہ سے ہمیں کامیابیوں کی خوشخبری دے رہا ہے۔اور ہم دوبارہ دنیا کی دیکھا دیکھی ان میں پڑنے والے ہورہے ہیں۔بعض اور باتوں کا بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ وہ بعض دفعہ احمدی معاشرہ میں نظر آتی ہیں۔بعض طبقوں میں تو یہ برائیاں بدعت کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ان کے خیال میں اس کے بغیر شادی کی تقریب مکمل ہو ہی نہیں سکتی یہ باتیں ہماری قوم کے علاوہ شاید دوسری قوموں میں بھی ہوں لیکن ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں نے سب سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا تھا۔ان کی یہ سب سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اندر کسی ایسے رسم ورواج کو راہ پانے کا موقع نہ دیں جہاں رسم و رواج بوجھ بن رہے ہیں۔یعنی جن کا اسلام سے، دین سے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہو۔اگر آپ لوگ اپنے رسم و رواج پر زور دیں گے تو دوسری قوموں کا بھی حق ہے۔بعض رسم و رواج تو دین میں خرابی پیدا کرنے والے نہیں وہ تو جیسا کہ ذکر آیا وہ بے شک کریں۔ہر قوم کے مختلف ہیں جیسا کہ پہلے میں نے کہا انصار کی شادی کے موقع پر بھی خوشی کے اظہار کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال بیان فرمائی ہے۔لیکن جو دین میں خرابی پیدا کرنے والے ہیں وہ چاہے کسی قوم کے ہوں رد کئے جانے والے ہیں کیونکہ احمدی معاشرہ ایک معاشرہ ہے اور جس طرح اس نے گھل مل کر دنیا میں وحدانیت قائم کرنی ہے، اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے، اگر ہر جگہ مختلف قسم کی باتیں ہونے لگ گئیں اس سے پھر دین بھی بدلتا جائے گا اور بہت ساری باتیں بھی پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو سے پھر بڑی بدعتیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں ، اس لئے بہر حال احتیاط کرنی چاہئے۔“ خطبات مسر در جلد سوم ص 691 تا 693) اپنے آپ کو معاشرے کے رسم ورواج کے بوجھ تلے نہ لائیں اپنے آپ کو معاشرے کے رسم ورواج کے بوجھ تلے نہ لائیں۔آنحضرت علی