بدرسوم و بدعات — Page 11
8 7 غلطی ہے قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ جیسی تیاری وہ کریں تم بھی ویسی ہی تیاری کرو یہ مسائل در اصل اجتہادی مسائل ہیں اور ان میں نیت کا بہت بڑا دخل ہے۔“ جلسہ سالانہ بدعت نہیں ہے ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 392،391 ) | میاں رحیم بخش صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے جلسہ سالانہ کے آغاز سے متعلق ایک اشتہار پر اعتراض کیا کہ ایسے جلسے پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے جس کے لئے کتاب اور سنت میں کوئی شہادت نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس اعتراض کا جواب درج ذیل الفاظ میں بیان فرمایا: یہ بھی یادر ہے کہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں تدبیر اور انتظام کیلئے ہمیں حکم فرمایا ہے اور ہمیں مامور کیا ہے کہ جو احسن تدبیر اور انتظام خدمت اسلام کیلئے ہم قرین مصلحت سمجھیں اور دشمن پر غالب ہونے کیلئے مفید خیال کریں وہی بجالا دیں جیسا کہ وه عـز اسمه، فرماتا ہے۔وَاعِدُوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُم مِن و یعنی دینی دشمنوں کیلئے ہر یک قسم کی طیاری جو کر سکتے ہو کر و اور اعلاء کلمہ اسلام کیلئے جو قوت لگا سکتے ہو لگاؤ۔اب دیکھو کہ یہ آیت کریمہ کس قدر بلند آواز سے ہدایت فرما رہی ہے کہ جو تد بیر میں خدمت اسلام کیلئے کارگر ہوں سب بجالاؤ اور تمام قوت اپنے فکر کی اپنے بازو کی اپنی مالی طاقت کی اپنے حسن انتظام کی اپنی تدبیر شائستہ کی اس راہ میں خرچ کرو تا تم فتح پاؤ۔اب نادان اور اندھے اور دشمن دین مولوی اس صرف قوت اور حکمت عملی کا نام بدعت رکھتے ہیں۔اس وقت کے یہ لوگ عالم کہلاتے ہیں جن کو قرآن کریم کی ہی خبر نہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس آیت موصوفہ بالا پر غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ برطبق حدیث نبوی کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کوئی احسن انتظام اسلام کی خدمت کیلئے سوچنا بدعت اور ضلالت میں داخل نہیں ہے جیسے جیسے بوجہ تبدل زمانہ کے اسلام کو نئی نئی صورتیں مشکلات کی پیش آتی ہیں یا نئے نئے طور پر ہم لوگوں پر مخالفوں کے حملے ہوتے ہیں ویسی ہی ہمیں نئی تدبیریں کرنی پڑتی ہیں پس اگر حالت موجودہ کے موافق ان حملوں کے روکنے کی کوئی تدبیر اور تدارک سوچیں تو وہ ایک تدبیر ہے بدعات سے اس کو کچھ تعلق نہیں اور ممکن ہے کہ بباعث انقلاب زمانہ کے ہمیں بعض ایسی نئی مشکلات پیش آجائیں جو ہمارے سید و مولی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس رنگ اور طرز کی مشکلات پیش نہ آئی ہوں مثلاً ہم اس وقت کی لڑائیوں میں پہلی طرز کو جو مسنون ہے اختیار نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانہ میں طریق جنگ و جدل بالکل بدل گیا ہے اور پہلے ہتھیار بیکار ہو گئے اور نئے ہتھیارلڑائیوں کے پیدا ہوئے اب اگر ان ہتھیاروں کو پکڑنا اور اٹھانا اور ان سے کام لینا ملوک اسلام بدعت سمجھیں اور میاں رحیم بخش جیسے مولوی کی بات پر کان دھر کے ان اسلحہ جدیدہ کا استعمال کرنا ضلالت اور معصیت خیال کریں اور یہ کہیں کہ یہ وہ طریق جنگ ہے کہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا اور نہ صحابہ اور تابعین نے تو فرمائیے کہ بجز اس کے کہ ایک ذلت کے ساتھ اپنی ٹوٹی پھوٹی سلطنتوں سے الگ کئے جائیں اور دشمن فتح یاب ہو جائے کوئی اور بھی اس کا نتیجہ ہوگا۔پس ایسے مقامات تدبیر اور انتظام میں خواہ وہ مشابہ جنگ و جدل ظاہری ہو یا باطنی۔اور خواہ تلوار کی لڑائی ہو یا قلم کی۔ہماری ہدایت پانے کیلئے یہ آیت کریمہ موصوفہ بالا کافی ہے۔یعنی یہ کہ أَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّة الله جل شانہ اس آیت میں ہمیں عام اختیار دیتا ہے کہ دشمن کے مقابل پر جو احسن تدبیر تمہیں معلوم ہو اور جوطرز تمہیں موثر اور بہتر دکھائی دے وہی طریق اختیار کرو پس اب ظاہر ہے کہ اس احسن انتظام کا نام بدعت اور معصیت رکھنا اور انصار دین کو جو دن رات اعلاء کلمہ اسلام کے فکر میں ہیں جن کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حُبُّ الْأَنْصَارِ مِنَ الْإِيمَانِ ان کو مردود ٹھہرانا