بدرسوم و بدعات — Page 10
6 5 رسوم کے توڑنے سے غرض اگر انسان تقویٰ اختیار نہ کرے تو اس کی نمازیں بھی بے فائدہ اور دوزخ کی کلید ہو سکتی ہیں چنانچہ اس کی طرف اشارہ کر کے سعدی کہتا ہے کلید در دوزخ است آن نماز که در چشم مردم گزاری دراز ریاء الناس کے لئے خواہ کوئی کام بھی کیا جاوے اور اس میں کتنی ہی نیکی ہو وہ بالکل بے سود اور الٹا عذاب کا موجب ہو جاتا ہے احیاء العلوم میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانے کے فقراء خدا تعالیٰ کے لئے عبادت کرنا ظاہر کرتے ہیں مگر دراصل وہ خدا کے لئے نہیں کرتے بلکہ مخلوق کے واسطے کرتے ہیں انہوں نے عجیب عجیب حالات ان لوگوں کے لکھے ہیں وہ بیان کرتے ہیں۔ان کے لباس کے متعلق لکھا ہے کہ اگر میلے رکھیں گے تو عزت میں فرق آئے گا اس لئے امراء میں داخل ہونے کے واسطے یہ تجویز کرتے ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے کپڑے پہنیں مگر ان کو رنگ لیتے ہیں ایسا ہی اپنی عبادتوں کو ظاہر کرنے کے لئے عجیب عجیب را ہیں اختیار کرتے ہیں مثلاً روزہ کے ظاہر کرنے کے واسطے وہ کسی کے ہاں کھانے کے وقت پر پہنچتے ہیں اور وہ کھانے کے لئے اصرار کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ آپ کھائیے میں نہیں کھاؤں گا مجھے کچھ عذر ہے اس فقرہ کے یہ معنے ہوتے ہیں مجھے روزہ ہے اس طرح پر حالات ان کے لکھے ہیں پس دنیا کی خاطر اور اپنی عزت اور شہرت کے لئے کوئی کام کرنا خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا موجب نہیں ہو سکتا اس زمانہ میں بھی دنیا کی ایسی ہی حالت ہو رہی ہے ہر ایک چیز اپنے اعتدال سے گر گئی ہے عبادات اور صدقات سب کچھ ریا کاری کے واسطے ہو رہے ہیں اعمال صالحہ کی جگہ چند رسوم نے لے لی ہے اس لئے رسوم کے توڑنے سے یہی غرض ہوتی ہے کہ کوئی فعل یا قول قال اللہ اور قال الرسول کے خلاف اگر ہو تو اسے توڑا جائے۔جبکہ ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور ہمارے سب اقوال اور افعال اللہ تعالیٰ کے نیچے ہونے ضروری ہیں۔پھر ہم دنیا کی پرواہ کیوں کریں ؟ جو فعل اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے رسول ہے کے خلاف ہو اس کو دور کر دیا جاوے اور چھوڑا جاوے۔جو حدود الہی اور وصایا رسول اللہ اللہ کے موافق ہوں ان پر عمل کیا جاوے کہ احیاء سنت اسی کا نام ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 391،390) دور جدید کی مفید ایجادات استعمال کرنا بدعت نہیں ” جو امور و وصایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے خلاف نہ ہوں یا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مخالف نہ ہوں اور نہ ان میں ریا کاری مد نظر ہو بلکہ بطور اظہار شکر اور تحديث بالنعمۃ ہو تو اس کے لئے کوئی حرج نہیں۔ہمارے علماء سابقہ تو یہاں تک بعض اوقات مبالغہ کرتے ہیں کہ میں نے سنا ایک مولوی نے ریل کی سواری کے خلاف فتویٰ دیا اور ڈاکخانہ میں خط ڈالنا بھی وہ گناہ بتا تا تھا اب یہاں تک جن لوگوں کے حالات پہنچ جاویں ان کے پاگل ہونے یا نیم پاگل ہونے میں کیا شک باقی رہا؟ یہ حماقت ہے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ میرا فلاں فعل اللہ تعالیٰ کے فرمودہ کے موافق ہے یا خلاف ہے اور جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ کوئی بدعت تو نہیں اور اس سے شرک تو لازم نہیں آتا اگر ان امور میں سے کوئی بات نہ ہو اور فسادایمان پیدا نہ ہو تو پھر اس کے کرنے میں کوئی ہرج نہیں إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کا لحاظ رکھ لے۔میں نے بعض مولویوں کی نسبت ایسا بھی سنا ہے کہ صرف ونخو وغیرہ علوم کے پڑھنے سے بھی منع کرتے ہیں اور اس کو بدعت قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت عے کے وقت یہ علوم نہ تھے پیچھے سے نکلے ہیں اور ایسا ہی بعض نے توپ یا بندوق کے ساتھ لڑنا بھی گناہ قرار دیا ہے۔ایسے لوگوں کے احمق ہونے میں شک کرنا بھی۔