بدرسوم و بدعات

by Other Authors

Page 12 of 73

بدرسوم و بدعات — Page 12

10 9 نیک طینت انسانوں کا کام نہیں ہے بلکہ در حقیقت یہ ان لوگوں کا کام ہے جنکی روحانی صورتیں مسخ شدہ ہیں۔افسوس کہ یہ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ تدبیر اور انتظام کو بدعات کی مد میں داخل نہیں کر سکتے۔ہر یک وقت اور زمانہ انتظامات جدیدہ کو چاہتا ہے۔اگر مشکلات کی جدید صورتیں پیش آویں تو بجز جدید طور کی تدبیروں کے اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔پس کیا یہ تدبیریں بدعات میں داخل ہو جائیں گی جب اصل سنت محفوظ ہو اور اسی کی حفاظت کیلئے بعض تدابیر کی ہمیں حاجت پڑے تو کیا وہ تدابیر بدعت کہلائیں گی معاذ اللہ ہرگز نہیں، بدعت وہ ہے جو اپنی حقیقت میں سنت نبویہ کے معارض اور نقیض واقع ہو اور آثار نبویہ میں اس کام کے کرنے کے بارے میں زجر اور تہدید پائی جائے۔اور اگر صرف جدت انتظام اور نئی تدبیر پر بدعت کا نام رکھنا ہے تو پھر اسلام میں بدعتوں کو گنتے جاؤ کچھ شمار بھی ہے۔علم صرف بھی بدعت ہوگا اور علم نحو بھی اور علم کلام بھی اور حدیث کا لکھنا اور اس کامبو اور مرتب کرنا سب بدعات ہوں گے ایسا ہی ریل کی سواری میں چڑھنا کلوں کا کپڑا پہننا ڈاک میں خط ڈالنا تار کے ذریعہ سے کوئی خبر منگوانا اور بندوق اور توپوں سے لڑائی کرنا تمام یہ کام بدعات میں داخل ہوں گے بلکہ بندوق اور توپوں سے لڑائی کرنا نہ صرف بدعت بلکہ ایک گناہ عظیم ٹھہرے گا کیونکہ ایک حدیث صحیح میں ہے کہ آگ کے عذاب سے کسی کو ہلاک کرنا سخت ممنوع ہے۔صحابہ سے زیادہ سنت کا متبع کون ہو سکتا ہے مگر انہوں نے بھی سنت کے وہ معنی نہ سمجھے جو میاں رحیم بخش نے سمجھے۔انہوں نے تدبیر اور انتظام کے طور پر بہت سے ایسے جدید کام کئے کہ جو نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے اور نہ قرآن کریم میں وارد ہوئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محدثات ہی دیکھو جن کا ایک رسالہ بنتا ہے۔اسلام کیلئے ہجری تاریخ انہوں نے مقرر کی اور شہروں کی حفاظت کیلئے کو تو ال مقرر کئے اور بیت المال کیلئے ایک باضابطہ دفتر تجویز کیا۔جنگی فوج کیلئے قواعد رخصت اور حاضری ٹھہرائے اور ان کے لڑنے کے دستور مقرر کئے اور مقدمات مال وغیرہ کے رجوع کیلئے خاص خاص ہدایتیں مرتب کیں اور حفاظت رعایا کیلئے بہت سے قواعد اپنی طرف سے تجویز کر کے شائع کئے اور خود کبھی کبھی اپنے عہد خلافت میں پوشیدہ طور پر رات کو پھرنا اور رعایا کا حال اس طرح سے معلوم کرنا اپنا خاص کام ٹھہرایا لیکن کوئی ایسا نیا کام اس عاجز نے تو نہیں کیا صرف طلب علم اور مشورہ امداد اسلام اور ملاقات اخوان کے لئے یہ جلسہ تجویز کیا۔رہا مکان کا بنانا تو اگر کوئی مکان بہ نیت مہمانداری اور بہ نیت آرام هر یک صادر و وارد بنا نا حرام ہے تو اس پر کوئی حدیث یا آیت پیش کرنی چاہیے اور اخویم حکیم نور الدین صاحب نے کیا گناہ کیا کہ محض للہ اس سلسلہ کی جماعت کیلئے ایک مکان بنوا دیا جو شخص اپنی تمام طاقت اور اپنے مال عزیز سے دین کی خدمت کر رہا ہے اس کو جائے اعتراض ٹھہرانا کس قسم کی ایمانداری ہے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحه 609 تا 612 ) |