ایک بابرکت انسان کی سرگزشت — Page 31
31 باتیں سنتا اور ان پر عمل کرتا ہے وہ اس عظیمند آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے چٹان پر اپنا گھر بنایا اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اس گھر پر ٹکریں لگیں لیکن وہ نہ گرا کیونکہ اس کی بنیاد چٹان پر ڈالی گئی تھی اور جو کوئی میری یہ باتیں سنتا ہے اور ان پر عمل نہیں کرتا وہ اس بے وقوف آدمی کی مانند ٹھہرے گا جس نے اپنا گھر ریت پر بنایا اور مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اس گھر کو صدمہ پہنچایا اور وہ گر گیا اور بالکل بر باد ہو گیا۔(متی باب5) حضرت عیسی ابن مریم کے منہ سے یہ الفاظ سن کر بہت سے لوگوں نے انہیں سچا نبی تسلیم کر لیا۔حضرت یحیی علیہ السلام نے اپنی تمام جماعت کے ساتھ ان کو قبول کر لیا۔کچھ لوگ تو آپ سے اس قدر محبت کرتے کہ ہر وقت آپ کے ساتھ ساتھ رہتے۔آپ جس طرف جاتے سینکڑوں آدمی آپ کے ساتھ چلتے حتی کہ آپ سے ملاقات مشکل ہو جاتی اس وقت کے ایک بادشاہ نے بھی آپ کی صداقت کو تسلیم کیا جو آپ کی نبوت کے منکر تھے وہ بھی آپ کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے کیونکہ آپ کے متعلق اللہ تبارک تعالیٰ کا وعدہ تھا۔وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَه یعنی وہ دُنیا و آخرت میں وجیہہ ہو گا۔یہودیوں کی سرکشی : مگر یہودیوں نے اپنی بدنصیبی کی وجہ سے اعتراضات کرنے شروع کر دیے۔اور سب سے بڑا اعتراض ان کو یہ تھا کہ عیسی نبی کے آنے سے پہلے ایک ایلیا نبی کو آسمان سے اترنا تھا۔کیونکہ اُن کا عقیدہ تھا کہ (سلاطین 2 باب 2 آیت (11) ایلیا اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ چلے گئے تھے جو آخری زمانہ میں اسی جسم کے ساتھ پھر آسمان سے اُتریں گے۔