ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 91 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 91

اور میری غرض اس ایک لحاظ سے لمبی اور ایک لحاظ سے مختصر تحریر سے یہ ہے کہ تمہیں بھی اس چشمہ کی حقیقی شناخت ہو جائے اور تمہارے دل میں اس کا شوق پیدا ہو جائے۔اور تم خود اس چشمہ سے جا کر سیراب ہو اور صرف دوسروں کے ذریعہ چلو بھر پانی حاصل کرنے پر قانع نہ رہو۔یہ وہی چشمہ ہے جو آج سے ساڑھے تیرہ صد سال قبل عرب کی سرزمین میں وادی بطحا میں پھوٹا اور پھر ہمارے زمانہ میں پنجاب کی سرزمین میں قادیان کی بستی میں پھوٹا ہے۔اس کا پانی ٹھنڈا اور میٹھا اور زندگی بخش ہے۔جو شخص اس چشمہ سے سیراب ہوا اس نے ہمیشہ کی زندگی حاصل کر لی اور جو اس سے محروم رہا اس نے تپش اور سوزش اور کرب کو اپنا حصہ بنایا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: آؤ لوگو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نے دیکھو دنیا میں اس وقت کس قدر کرب و بے چینی ہے۔امن اور اطمینان اٹھ گیا ہے۔بنی نوع انسان ہراساں ہے۔اور نہیں جانتے کہ کہاں اور کس طرح حقیقی تسلی پائیں۔سب امن کے متلاشی ہیں لیکن امن کو پا نہیں سکتے۔اطمینان چاہتے ہیں لیکن اطمینان ان سے روک دیا گیا ہے۔بظاہر وہ کونسی نعمت ہے جو آج دنیا کو میسر نہیں۔پچھلے زمانوں کے مقابلہ میں انسان کی زندگی آج زمین پر نہایت آرام اور اطمینان کی زندگی ہونی چاہئے اور یہی زمین بہشت کا نمونہ ہونی چاہئے لیکن یہ زمین دوزخ کا نمونہ بن رہی ہے۔جن قوموں کو تہذیب و تمدن اور شائستگی کا سب سے بڑھ کر دعویٰ ہے وہی امن کی بربادی کے در پے ہیں اور انسان کے دکھ اور ضرر اور اس کی موت اور تباہی کے سامان دیوانوں کی طرح تیار کر رہے ہیں۔یہ اس لئے ہوا کہ انسان نے امن حاصل کرنے کا وہ رستہ چھوڑ دیا جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا تھا اور اپنے خود تراشے ہوئے رستوں کو اختیار کیا اور ان رستوں پر چلتے چلتے انسان بجائے امن کی وادی میں پہنچنے کے خوف اور ملال اور بے چینی اور جوش اور فساد اور ہلاکت کی وادی میں پہنچ گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے ہاتھوں کی کمائی کے نتیجہ میں ہلاکت کے 91