ایک عزیز کے نام خط

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 92 of 144

ایک عزیز کے نام خط — Page 92

منہ میں نہیں چھوڑ دیا۔اس نے اپنے رحم سے اس کی نجات کا رستہ کھولا ہے اور جو بھی اس رستہ کو شناخت کرتا اور اس پر گامزن ہوتا ہے وہ یقیناً امن واطمینان اور سکون اور خوشی اور راحت اور ابدی زندگی کی وادی میں پہنچ جائے گا۔لیکن جو افراد یا قو میں اس رستہ سے منہ موڑتی ہیں اور اپنے دماغوں کی تجویز کردہ تدابیر اختیار کرتی ہیں اور اللہ تعالی کی آواز پر کان نہیں دھر تیں وہ ضرور ضرور ہلاک ہوں گی اور ان کا ذکر دنیا کی تاریخ میں اسی طور پر رہ جائے گا جیسے عاد و ثمود اور فرعون کی قوم اور رومیوں اور یونانیوں اور ایرانیوں کا ذکر۔سائنس اور مذہب یہاں تک تو ایمان اور عقائد کا ذکر تھا اب میں عملی حصہ کے متعلق کچھ بیان کرتا ہوں۔لیکن اس سے قبل شاید اس امر سے متعلق کچھ وضاحت کر دینی مفید ہو گی۔آج کل ایک رو چل پڑی ہے کہ جس بات سے متعلق ہمیں سائنس کی تائید نہ مل سکے اسے یا تو رد کر دیا جاتا ہے یا مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے۔حالانکہ سائنس خود ایک نامکمل حالت میں ہے اور روز بروز ہمارے علم میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ آج جو فیصلہ سائنس کا کسی بات سے متعلق ہے وہ قطعی اور یقینی ہے۔میں مثال کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ قرآن کریم میں ذکر ہے کہ لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف آخرت میں شہادت دیں گے۔سینما کی ایجاد سے قبل اس حقیقت کا سائنس کی بناء پر سمجھنا مشکل تھالیکن سینما نے یہ حقیقت واضح کر دی۔جو لوگ سینما دیکھنے کے لئے جاتے ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ کس طور پر ہاتھ اور پاؤں کی شہادت محفوظ کی جاسکتی ہے اور پھر لوگوں کو دکھائی جاسکتی ہے۔حتی کہ ایک ایکٹر خود جا کر اس تصویر کو دیکھ سکتا اور اپنے ہاتھ پاؤں کی حرکات کا اندازہ لگا سکتا ہے جس میں وہ حصہ لے چکا ہوتا ہے۔جب بادشاہ جارج پنجم 1911ء میں ہندوستان تشریف لائے اور دہلی میں تاج پوشی کا دربار ہوا تو دربار کی تصویر لی گئی اور بعد میں بہت عرصہ وہ لندن میں 92